(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر/۲۸؍نومبر
یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کے لیے معمول کے ویزوں کا اجرا معطل کر دیا ہے کیونکہ حکام کو تشویش ہے کہ کچھ درخواست گزار "مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث” ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند ماہ میں پاکستانی مسافروں نے ویزا مسترد ہونے کی شکایات کی تھیں۔
ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اس اقدام کا تعلق ان خدشات سے ہے کہ پاکستانی شہری خلیجی ملک جا کر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں، ڈان کے مطابق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے پاکستانی درخواست گزاروں کے مشکوک تعلیمی اسناد اور دیگر دستاویزات کے حوالے سے بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں، جبکہ بعض کے مجرمانہ پس منظر کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ سعودی عرب اور یو اے ای دونوں پاکستانی پاسپورٹ پر باضابطہ پابندی لگانے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
سابق پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اس صورتحال کو "بہت سنجیدہ” قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اماراتی حکام پاکستانی ڈگریوں اور پیشہ ورانہ اسناد کی صداقت پر سوال اٹھا رہے ہیں، اور اگر ان پر پاکستان یا یو اے ای میں مطلوبہ تصدیق نہیں ہوتی تو اصل اسناد بھی مسترد ہو سکتی ہیں۔
یو اے ای اب AI پر مبنی سسٹمز کے ذریعے اسناد کی جانچ کرتا ہے، جس سے جانچ مزید سخت ہو گئی ہے۔
یہ سخت چھان بین اور پالیسیوں میں سختی عام پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا کے اجراء میں تقریباً مکمل رکاوٹ کا سبب بنی ہے، جبکہ سفارتی اور بلیو پاسپورٹ ہولڈرز اس سے مستثنیٰ ہیں۔
پاکستانی وزارت داخلہ کے سینئر حکام نے بھی پارلیمانی کمیٹی میں تصدیق کی کہ یو اے ای نے زیادہ تر پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا روک دیا ہے، اگرچہ باضابطہ پابندی نافذ نہیں کی گئی۔






