یہ کارروائیاں مکمل قانونی تقاضوں کی پاسداری کے ساتھ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنا کر انجام دی گئیں:پولیس
سرینگر/۲۷نومبر
سرینگر پولیس نے دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد اور اُن کے معاون نیٹ ورک کے خلاف جاری خصوصی مہم کے تحت آج شہر بھر میں مدارس اور مساجد پر وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔
پولیس نے بتایا کہ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے معاون ڈھانچے کو توڑنا اور تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام کی کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے ۔
پولیس ٹیمیں، جن کے ساتھ ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہ بھی موجود تھے ، مختلف علاقوں میں متعدد مدرسوں اور مساجد کا معائنہ کیا۔
اس دوران ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور وہ تمام مواد کھنگالا گیا جس کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ کسی غیر قانونی، سازشی یا انتہا پسندانہ سرگرمی سے منسلک ہو سکتا ہے ، جو ملک کی سلامتی اور عوامی امن کے لیے نقصان دہ ہو۔
سرینگر پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائیاں مکمل قانونی تقاضوں کی پاسداری کے ساتھ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنا کر انجام دی گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی معتبر اطلاع ملے گی کہ کسی مقام پر دہشت گردی یا انتہا پسندی سے متعلق مواد یا افراد موجود ہیں، وہاں ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں، امن کے قیام میں پولیس کا ساتھ دیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری طور پر اطلاع دیں۔ سرینگر پولیس نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ملک کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے ۔
وادی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے چھاپوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ یہ کارروائیاں دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک ۱۰ نومبر کو کار میں ہونے والے دھماکے اور اس کے بعد سامنے آئے ’وائٹ کالر‘دہشت گرد ماڈیول کے پردہ فاش ہونے کے تناظر میں کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقصد دہشت گردی کے معاون ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
تحقیقات کے سلسلے میں دو مذہبی مبلغین، مولوی عرفان (شوپیاں) اور مولوی اشتیاق (میوات، ہریانہ) کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں مبلغین سے پوچھ گچھ جاری ہے اور ان سے اہم سراغ ملنے کی توقع ہے۔
پولیس نے مزید کہا ہے کہ وادی میں مختلف مقامات پر تلاشی اور چھاپہ ماری کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ ان تمام عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے جو کسی بھی سطح پر شدت پسند سرگرمیوں کو مدد پہنچاتے ہیں۔
دریں اثناسرینگر پولیس نے امن و قانون کی صورتحال کو مضبوط بنانے اور خطے میں تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے جمعرات کو شہر بھر میں جماعت اسلامی سے وابستہ بعض افراد اور اداروں کے گھروں و تجارتی مراکز کی تلاشی لی ۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائیاں معتبر اطلاعات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئیں جن میں بتایا گیا تھا کہ کچھ سرگرم عناصر کی مشکوک حرکات خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
پولیس ٹیموں نے چھانہ پورہ، بڈگام، بمنہ، صورہ، لالبازار، ہارون اور نوگام سمیت متعدد علاقوں میں چھاپے مارے ، جہاں کئی رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔ کارروائی کے دوران ٹور اینڈ ٹراول یونٹ، پرائیویٹ اسکول، تحقیقی مراکز اور کتابی اداروں کا بھی معائنہ کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران کچھ ایسے شواہد اور مواد برآمد کیا گیا ہے جس کا تعلق جاری تحقیقات سے ہے اور جسے قانونی کارروائی کے لیے ضبط کر لیا گیا ہے ۔
شہر کے مختلف مقامات پر قائم کچھ اداروں، جن میں جامعہ البنات لال بازار، راحت منزل (جے کے یتیم خانہ) چھتہ بل، چنار پبلیکیشن ٹرسٹ مائسمہ اور الکوسر بُک شاپ مائسمہ شامل ہیں، پر بھی تلاشی کارروائیاں انجام دی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ یہ چھاپے مکمل قانونی طریقہ کار کے مطابق شفاف انداز میں کیے گئے جن میں ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہ بھی موجود رہے ۔
سرینگر پولیس نے شہریوں کو یقین دلایا کہ امن و امان کو قائم رکھنا اس کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی، سازشی یا انتہا پسندانہ سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ شہر میں امن اور عمومی صورتحال برقرار رہ سکے ۔
پولیس نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہے اور حاصل شدہ شواہد کی بنیاد پر مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ایجنسیز/ڈیسک









