سرینگر/۲۵نومبر
ایسے وقت میں جب شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں داخلوں پر تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج خبردار کیا کہ مذہبی بنیادوں پر میرٹ رکھنے والے مسلم طلبہ کو تعلیمی اداروں میں داخلے سے محروم کرنا انہیں شدت پسندی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
اس ادارے نے اس سال اپنی پہلی بیچ شروع کی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا’’آپ نے ٹھیک کہا کہ یہ عقیدے کی بات ہے۔ پھر جب آپ میڈیکل کالج بنا رہے تھے تو آپ کو اسے ایک اقلیتی ادارے کا درجہ دینا چاہیے تھا۔ آپ نے کیوں نہیں دیا؟ آپ کو دینا چاہیے تھا، مگر آپ نے نہیں دیا۔ داخلہ صرف نیٹ انٹرنس ٹیسٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے، مذہب کی بنیاد پر نہیں۔ اب اگر آپ نہیں چاہتے کہ مسلمان اس میں پڑھیں، تو ٹھیک ہے جناب۔ آپ اس کو اقلیتی ادارہ قرار دیں، براہِ کرم یہ کر دیں،‘‘
عمرعبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے نگروٹہ میں صحافیوں سے کہا۔
بی جے پی کے ایم ایل ایز کا ایک وفد، جس کی قیادت اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کر رہے تھے، نے ہفتے کے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور داخلہ فہرست کی منسوخی اور صرف اْن طلبہ کے لیے نشستیں مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا جو ماتا ویشنو دیوی میں عقیدہ رکھتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا ’’انہوں نے میرٹ پر داخلہ حاصل کیا ہے، انہیں کہیں اور داخلہ دلا دیں۔ لیکن کل جب آپ مسلمانوں پر انگلیاں اٹھائیں گے، آپ کہیں گے کہ یہ فرقہ پرست ہو گئے، یہ تنگ نظر ہو گئے، یہ دوسروں کو برداشت نہیں کرتے…تو یاد رکھئے گا: جب آپ ان کے بچوں کو قبول نہیں کرتے، تو کل کچھ ہوتا ہے تو پوری کمیونٹی کو قصوروار نہ ٹھہرائیں۔‘‘
اس ادارے کو اس سال ۵۰؍ ایم بی بی ایس نشستیں منظور کی گئی تھیں۔ تاہم ۲۰۲۵۔۲۰۲۶ کے تعلیمی سال کے پہلے بیچ میں ایک ہی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ۴۲ طلبہ کو دیے گئے داخلوں نے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے، جس میں دائیں بازو کے ہندو گروہوں نے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور اس نئے قائم شدہ ادارے کو ’’اقلیتی ادارہ‘‘ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’جب بچوں کو فرید آباد یونیورسٹی میں داخلہ ملا تو لوگوں نے کیا پوچھا؟ ‘یہ ایسے اداروں میں کیوں جاتے ہیں؟ کیوں وہاں جاتے ہیں جہاں یہ شدت پسند بن جاتے ہیں؟’ جب بچے ماتا ویشنو دیوی جیسے میڈیکل کالج میں جانے کے لیے تیار ہیں، تو انہیں فرق نہیں پڑتا کہ اس کا نام ماتا ویشنو دیوی ہے۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’اب آپ انہیں ان کے مذہب کی بنیاد پر داخلے سے انکار کر رہے ہیں۔ کل اگر وہ کسی دوسرے ادارے میں جاتے ہیں جہاں وہ شدت پسند بن جاتے ہیں، تو کیا سنیل شرما صاحب پھر یہ کہیں گے کہ اس میں ان کی غلطی ہے؟‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ۴۲ مسلم طلبہ اور غالباً ایک سکھ طالب علم شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں میرٹ کی بنیاد پر داخل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’مسلم بچوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کریں، کیونکہ پھر جو کچھ ہوتا ہے اس کا الزام آپ پوری کمیونٹی پر لگا دیتے ہیں۔ ایسا نہ کریں۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ مسلم بچے اس میڈیکل کالج میں پڑھیں تو براہِ کرم اس کی حیثیت بدل دیں، اسے اقلیتی درجہ دے دیں، اور ہمارے بچے کہیں اور چلے جائیں گے: بنگلہ دیش، ترکی یا کہیں اور۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جب جے اینڈ کے اسمبلی میں اس ادارے کو قائم کرنے کا بل منظور ہوا تھا، تب کبھی بھی یہ ارادہ نہیں تھا کہ اس میڈیکل کالج کو ایک اقلیتی ادارہ بنایا جائے، بلکہ مقصد یہ تھا کہ اسے صرف میرٹ کی بنیاد پر ایک ادارہ عالیہ کے طور پر قائم کیا جائے۔
پیر کے روز وزیر اعلیٰ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، شرما نے کہا کہ وہ میرٹ کے خلاف نہیں ہیں لیکن عقیدے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عمرعبداللہ نے پیر کو کہا تھا، ’’جب اسمبلی نے ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور کیا تھا، تو کہاں یہ لکھا تھا کہ کسی خاص مذہب کے طلبہ کو اس کے باہر رکھا جائے گا؟ اْس وقت کہا گیا تھا کہ داخلے مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔‘‘
شرما نے کہا، ’’وزیر اعلیٰ کے بیان پر مجھے حیرت ہوئی۔ ہم نے کبھی میرٹ چھوڑنے کی بات نہیں کی۔ فرقہ وارانہ اور علاقائی سیاست نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو راس آتی ہے۔ بی جے پی ایک قومی جماعت ہے اور پورے ملک کو ایک سمجھتی ہے۔‘‘
تاہم، انہوں نے کہا کہ بی جے پی کبھی بھی ’’عقیدے، بھگتی اور وفاداری‘‘ پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
بی جے پی لیڈر نے کہا، ’’ویشنو دیوی ایک مذہبی مقام ہے اور ملک بھر اور بیرون ملک کے عقیدت مندوں کے دلوں میں اس کی ایک خاص جگہ ہے۔ دوسرے مذاہب کے لوگوں کی اپنی طرزِ زندگی ہوتی ہے اور یہ ٹکراؤ اور امن و قانون کے مسئلے کو جنم دے سکتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بات کرنا وزیر اعلیٰ کو نہیں جچتا۔
ان کاکہنا تھا’’شہزادے صاحب بتائیں کہ انہوں نے کس طرح سینئر لیڈروں کو نظرانداز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا عہدہ حاصل کیا؟ آپ کی میرٹ یہ ہے کہ آپ عبداللہ خاندان سے ہیں۔
(ویب ڈیسک)‘‘










