سرینگر/۲۴نومبر//
اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مضافات میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے چیف آف سٹاف ہیثم علی طبطبائی کو ہلاک کر دیا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے طبطبائی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے ہیثم علی طبطبائی گروہ کے اندر ایک ’سینئر جہادی رہنما‘ کی حیثیت رکھتے تھے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ علی طبطبائی کا شمار تحریک کے ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جنھوں نے اس کی ابتدائی بنیادیں رکھی تھیں۔
بی بی سی عربی کے مطابق، 26 اکتوبر 2016 کو امریکی محکمہ خارجہ نے ہیثم علی طبطبائی جنھیں ابو علی طبطبائی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت ’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا تھا۔
اس نامزدگی کے نتیجے میں، امریکی دائرہ اختیار میں ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے اور امریکی شہریوں کو ان سے کسی بھی قسم کے لین دین سے منع کر دیا گیا تھا۔
امریکہ نے ان کے سر پر 50 لاکھ ڈالرز کا انعام بھی رکھا تھا۔
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، ’حزب اللہ کے سینئر فوجی رہنما طبطبائی کے بارے میں معلومات فرآہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالرز تک انعام‘ تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، طبطبائی نے شام اور یمن دونوں میں حزب اللہ کی ایلیٹ فورسز کی کمانڈ کی ہے۔
محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ طبطبائی نے حزب اللہ کی جانب سے ان دونوں ممالک میں جنگجووں کی تربیت، سازوسامان اور اہلکار فراہم کرنے کی وسیع تر کوششوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اسرائیل کے چینل 12 کی خبر کے مطابق، اسرائیل نے جنگ کے دوران دو مرتبہ ابو علی الطبطبائی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اور بیروت کے مضافات میں ہونے والا حملہ اس سلسلے کی تیسری کارروائی تھی۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ایک سیاسی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ’اسرائیل نے حملہ کرنے سے پہلے واشنگٹن کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔‘
اس کے برعکس، امریکی ویب سائٹ ایگزیوز نے ایک سینیئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’اسرائیل نے ہمیں [بیروت کے] جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی تھی، اور ہمیں اس کے ہونے کے بعد مطلع کیا گیا تھا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں تیز کرنے کے منصوبوں سے آگاہ تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ حملہ کب کیا جائے گا۔








