سرینگر/۲۲ نومبر
’’سرینگر میں سیکورٹی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور امن برقرار رکھنے کیلئے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں‘‘۔
یہ بات سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل پون کمار شرما نے ہفتے کے روز کہی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیکورٹی ادارے قریبی اشتراکِ عمل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
مجموعی سیکورٹی صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں شرما نے کہا کہ سی آر پی ایف، جموں و کشمیر پولیس، فوج اور سول انتظامیہ مل کر خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سی آر پی ایف کے آئی جی نے کہا’’سرینگر اور دیگر علاقوں میں ہر ممکن سیکورٹی انتظام کیا گیا ہے‘‘۔
شرما کے مطابق سی آر پی ایف کے دستے شہر اور ملحقہ علاقوں میں تعینات ہیں، اور پولیس، فوج اور سول انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ’’بہتر کام‘‘ کیا جا رہا ہے۔
سی آر پی ایف کے آئی جی کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب جموں و کشمیر پولیس کے انسدادِ جاسوسی ونگ نے ایک ڈاکٹر سے منسلک دہشت گردی کی سازش کے سلسلے میں وادی کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے وضاحت کی کہ یہ کارروائیاں ’’وائٹ کالر دہشت گرد گروہ‘‘ یا دہلی دھماکے کیس سے متعلق نہیں تھیں۔ چھاپے سرینگر، اننت ناگ اور کولگام میں مارے گئے۔
حالانکہ شہر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران کوئی دہشت گردانہ واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم ۱۴نومبر کو نوگام پولیس اسٹیشن میں دھماکے سے ۹؍افراد جاں بحق اور ۳۲ زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس اور فرانزک ٹیمیں ’’وائٹ کالر‘‘ گروہ سے برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کا معائنہ کر رہی تھیں۔
شرما ایک کرکٹ ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔
سی آر پی ایف کے آئی جی نے بتایا کہ سی آر پی ایف پچھلے تین برسوں سے یہ ٹورنامنٹ منعقد کر رہی ہے، جس میں سرینگر، بڈگام اور گاندربل کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ اس سال ۱۲۳ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے ۱۶ ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
شرما نے کہا’’ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو کھیلوں سے جوڑنا ہے۔ اس سال ٹیموں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ۱۹؍اور ۲۳ برس سے کم عمر کھلاڑی شامل کریں۔ کشمیر میں کرکٹ میں بے پناہ دلچسپی ہے اور لوگ بڑے جوش و خروش سے کھیلتے ہیں۔ ہم کھیل کے ذریعے لوگوں سے ربط بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ امن و سکون قائم رہے‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایسے پروگرام نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے میں مدد دیتے ہیں، تو شرما نے کہا کہ اس سے فورسز کے لیے عوامی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
سی آر پی ایف کے آئی جی نے کہا کہ سی آر پی ایف گزشتہ ۳۵ برس سے خطے میں خدمات انجام دے رہی ہے اور ’’ہر کوئی اپنا کام اچھے طریقے سے کر رہا ہے۔
(ندائے مشرق خبر)‘‘










