لندن، 21 نومبر (یو این آئی)
برطانیہ نے اسائلم پالیسی میں تبدیلی کے بعد امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا۔
برطانیہ میں قانونی طور پر آنے والے امیگرینٹس کو مستقل رہائش کے لیے 20 سال تک انتظار کرنا پڑسکتا ہے جبکہ غیر قانونی طور پر آنے والوں کو مستقل رہائش کے لیے 30 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
وزیرداخلہ شابانہ محمود نے امیگریشن پالیسی پربات کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو بتایا کہ مستقل رہائش کے خواہشمند افراد کے لیے لازم ہے کہ ان کا کریمنل ریکارڈ نہ ہو، اے لیول کے معیار کی انگریزی بولنے میں مہارت رکھتا ہو، ان پر ملک میں کوئی قرضہ بھی نہیں ہونا چاہیے ، نئے مجوزہ قواعد کا اطلاق برطانیہ میں پہلے سے موجود افراد پر بھی ہوگا۔
اس تجویز کے تحت مختلف کیٹیگریز کے لیے سیٹلمنٹ کا وقت بھی مختلف ہوگا، وزیرداخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ مستقل رہائش کے لیے رجوع کرنے سے قبل برطانیہ میں قیام کی مدت 5 کے بجائے 10 برس کردی جائے گی۔
شبانہ محمود نے بتایا کہ این ایچ ایس کے لیے خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اور نرسیں 5 برس بعد ہی مستقل رہائش کے لیے رجوع کرسکیں گے ، ذہین افراد کو فاسٹ ٹریک کے ذریعے اور زائد آمدنی اور انٹرپینیورز 3 برس بعد ہی مستقل رہائش کے لیے اپلائی کرسکیں گے ۔
شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ٹوٹے ہوئے امیگریشن نظام کو منصفانہ اور انضمام کے نظام سے بدلنا چاہتی ہوں، میرے والدین بھی بہتر زندگی کے لیے برطانیہ آئے اور پھر مقامی شہری بن گئے ۔







