جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home تازہ تریں

سرینگر میں پولیس کی شہر میں کیمیکل اور کھاد کی دوکانوں کی جانچ پڑتال‘

ذخیرے کی محفوظ نگرانی پر زور‘دستاویزات چیک‘دہلی کار دھماکے کے بعد یو ٹی میںہمہ گیر سیکورٹی بندوبست، نگرانی نظام مزید فعال

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-22
in تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
سرینگر میں پولیس کی شہر میں کیمیکل اور کھاد کی دوکانوں کی جانچ پڑتال‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

سرینگر/۲۱نومبر
وادی میں حفاظتی انتظامات میں اضافے کے پیشِ نظر سرینگر پولیس نے جمعے کو شہر کے مختلف علاقوں میں کیمیکل اور کھاد بیچنے والی دوکانوں کی ہمہ گیر جانچ مہم چلائی۔
پولیس کے مطابق اس کارروائی کا مقصد حساس مواد کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا اور قانون کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کو یقینی بنانا ہے ۔
ذرائع کے مطابق پولیس کی خصوصی ٹیموں نے پولیس اسٹیشن نوہٹہ، لال بازار، شہیدگنج، چندرپورہ، راجباغ، آر ایم باغ، ہارون، نشاط، ایم آر گنج، صفاکدل، زڈی بل، حضرت بل، نگین، صدر اور دیگر کئی علاقوں میں دوکانوں کا معائنہ کیا۔
کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں نے اسٹاک رجسٹر، خرید و فروخت کے ریکارڈ، بلک خریداروں کی شناخت کے طریقۂ کار، اور ایسے کیمیکل یا کھاد کی محفوظ ذخیرہ اندوزی کی جانچ کی جن کا غلط استعمال سکیورٹی کیلئے خدشات پیدا کرسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ دوکانداروں کے لائسنس، قانونی ضوابط اور حفاظتی رہنما خطوط پر عمل درآمد کی بھی تصدیق کی گئی۔
ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی حساس یا محدود شدہ مواد غیر مجاز افراد تک نہ پہنچے ۔
افسر نے کہا’’ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تمام ڈیلر درست ریکارڈ رکھیں، شناختی دستاویزات کی باقاعدہ جانچ کریں اور کسی بھی مشتبہ خرید و فروخت کی فوری اطلاع پولیس کو دیں‘‘۔
پولیس نے دوکانداروں کو موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں چوکنا رہنے ، مشکوک لین دین کی اطلاع دینے اور ریکارڈ کی شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔
اہلکاروں نے واضح کیا کہ تمام دوکانوں میں کیمیکل اور کھاد کے ذخیرے کی محفوظ طریقے سے نگرانی اور مناسب طریقے سے دستاویزی کارروائی قانونی طور پر ضروری ہے ۔
سرینگر پولیس کے مطابق اس طرح کی جانچ مہم آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گی تاکہ حساس مواد کے کسی بھی ممکنہ غلط استعمال کو بروقت روکا جاسکے ۔ یہ جانچ مہم عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے ہماری جامع حکمت عملی کا اہم حصہ ہے ۔ حساس کیمیکل یا کھاد کا غلط ہاتھوں میں جانا کسی بھی سنگین صورتحال کو جنم دے سکتا ہے ، اس لیے ایسی کارروائیاں ناگزیر ہیں۔
پولیس نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ امن و امان برقرار رکھنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی بیخ کنی کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں اور انتظامیہ ہر سطح پر حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے ۔
اس دوران دہلی میں پیش آئے کار دھماکے کے بعد ملک بھرکے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی ایک وسیع، منظم اور ہمہ جہتی کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔
وادی کی حساسیت، دہشت گردی کے بدلتے ہوئے حربے اور لاجسٹک نیٹ ورک کی پیچیدگیوں کو دیکھتے ہوئے ریاستی پولیس، مرکزی ایجنسیاں اور انٹیلی جنس یونٹس مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ اس بار کارروائیوں کا دائرہ روایتی عناصر تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ان تمام سیکٹرز کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں دہشت گرد عناصر کے بالواسطہ سہولت کار بننے کا خطرہ رکھتے ہیں۔
گاڑیوں کے ڈیلرز، کیمیکل ہول سیلرز، سم کارڈ فراہم کرنیوالے ریٹیلرز کے بعد اب ایک نیا اور اہم اقدام سامنے آیا ہے جس کے تحت اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کے لاکرز کی بھی اچانک چیکنگ کی جا رہی ہے ۔
دہلی دھماکے کی تحقیقات کے ابتدائی اشاروں نے سکیورٹی ایجنسیوں کو متنبہ کر دیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد، تکنیک اور انداز نہ صرف جدید ہے بلکہ اس میں مقامی اور بین ریاستی نیٹ ورکس کا بھی کردار ہوسکتا ہے ۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بعض شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی ترسیل اور اس کی تیاری میں مختلف چینلز کا استعمال ہوا، جن میں کیمیکل سپلائی، غیر رجسٹرڈ گاڑیاں، جعلی سم کارڈ اور چند دیگر لوجسٹک ذرائع شامل ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں اس وقت ایک جامع نگرانی نظام نافذ کیا گیا ہے جس میں ہر وہ شعبہ شامل ہے جہاں دہشت گرد عناصر کو ممکنہ سہولت مل سکتی ہے ۔
جموں وکشمیر کے لگ بھگ سبھی اضلاع میں گزشتہ دو دنوں سے گاڑیوں کے ڈیلرز کی سخت تلاشی جاری ہے ۔ پولیس کی خصوصی ٹیمیں اچانک شورومز اور ورکشاپس پر پہنچ کر رجسٹریشن ریکارڈ، تازہ ٹرانزیکشنز، خریداروں کی شناخت، اسٹاک کی تفصیلات اور مشکوک سرگرمیوں پر تحقیقات کر رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق ماضی میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہونے والی گاڑیاں جعلی دستاویزات یا فرضی ناموں پر خریدی گئی تھیں۔ کئی ڈیلرز کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ کسی بھی صارف کو غیر مکمل یا نامکمل کے وائی سی کی بنیاد پر گاڑی فروخت کرنا ناقابل معافی جرم تصور کیا جائے گا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا ’’سکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے ۔ ہر گاڑی کے لین دین، خرید و فروخت اور شناختی ریکارڈ کی تصدیق ضروری ہے ۔ جہاں بھی خلاف ورزی ملے گی، کارروائی لازمی ہوگی‘‘۔
اسی طرح کی کارروائیاں کھاد اور کیمیکل فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف بھی جاری ہیں۔ دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں بعض کیمیکلز کے غلط استعمال کے خدشے کے پیش نظر پولیس نے وادی بھر میں درجنوں سپلائی مراکز کی تلاشیاں لی ہیں۔ دو دن کے اندر کئی ہول سیلرز اور فارمر سپلائی اسٹوروں سے خریداری کے ریکارڈ حاصل کیے گئے ہیں۔ دکانداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ ہر کسٹمر کی شناختی دستاویز محفوظ رکھی جائے ، خریدی گئی مقدار درج کی جائے ، اور اگر کوئی نامعلوم شخص غیر معمولی مقدار میں کیمیکل لیتا ہے تو فوری طور پر متعلقہ تھانے کو اطلاع دی جائے ۔
سم کارڈ فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی سکیورٹی اداروں نے خصوصی مہم شروع کی ہے ۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، دہشت گرد عناصر جعلی کے وائی سی، دوسرے افراد کی چوری شدہ شناخت یا نامکمل دستاویزات کا استعمال کر کے سم کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جنہیں بعد ازاں رابطے اور ہدایات کے تبادلے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
سیکورٹی مہم کا ایک نیا پہلو جس نے عوام اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے ، وہ اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کے لاکرز کی اچانک تلاشی ہے ۔ صحت کے محکمے نے سکیورٹی ایجنسیوں کی سفارش پر یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ ایسے غیر قانونی عناصر کو بے نقاب کیا جاسکے ، جو اسپتالوں کی حساسیت کا فائدہ اٹھا کر مشکوک سرگرمیوں کے لیے جگہ پیدا کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، کچھ اسپتالوں میں پچھلے چند ہفتوں کے دوران اسٹاف لاکرز سے ایسی اشیا ضبط کی گئی ہیں جو باقاعدہ پروٹوکول کے خلاف تھیں۔ محکمہ صحت نے وادی کے تمام بڑے اسپتالوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر یونٹ میں لاکر چیکنگ کو لازمی بنائیں، چاہے وہ آپریشن تھیٹر کا عملہ ہو، لیبارٹری ٹیکنیشنز ہوں یا وارڈ اسٹاف۔
حکام نے بتایا ’’یہ قدم صرف سکیورٹی نقطئہ نظر سے نہیں بلکہ انتظامی شفافیت کے لیے بھی ضروری ہے ۔ اسپتال حساس جگہیں ہیں، یہاں ایک غلطی بڑے واقعے کا سبب بن سکتی ہے ۔ اس لیے لاکر چیکنگ ایک معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہے ‘‘۔افسر کے مطابق، اگرچہ بہت سے ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے نے اسے ایک اچانک اور غیر متوقع اقدام قرار دیا ہے ، لیکن مجموعی طور پر اس مہم کو صحت نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔
سڑکوں اور شاہراہوں پر بھی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے ۔ جموں،سری نگر ہائی وے ، قاضی گنڈ ٹنل، بانہال ٹنل، ایئرپورٹ روڈ، لال چوک اور دیگر حساس مقامات پر خصوصی ناکے قائم کیے گئے ہیں جہاں گاڑیوں، مسافروں اور سامان کی اسکیننگ جدید آلات کے ذریعے کی جا رہی ہے ۔ سنائفر ڈاگز، بم ڈٹیکشن ڈیوائسز اور جدید سرویلنس سسٹم تعینات کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ ہے اور ہر ضلع کے ایس ایس پی کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کریں، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے استعمال پر پابندی سخت کریں، کیمیکل خریداری کو مانیٹر کریں اور ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک میں موجود خامیوں کو فوری دور کریں۔
دہلی دھماکے کے بعد کشمیر میں شروع کیا گیا یہ کریک ڈاؤن محض ایک وقتی کارروائی نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی ہے ۔ بظاہر یہ اقدامات سخت نظر آتے ہیں، مگر سکیورٹی حکام کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور دہشت گردی کے نئے حربوں نے انہیں مجبور کیا ہے کہ وہ معمول سے ہٹ کر اقدامات اٹھائیں۔
ایک سینئر افسر نے کہا کہ ہم کسی بھی لنک کو چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ چاہے وہ گاڑیوں کی خرید و فروخت ہو، کیمیکل کی سپلائی ہو، سم کارڈ کا اجرا ہو یا اسپتالوں کی اندرونی سرگرمیاں،ہر شعبہ اہم ہے ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واضح ہے کہ کشمیر میں سکیورٹی ایجنسیاں کسی بھی طرح کی چوک سے بچنا چاہتی ہیں اور موجودہ اقدامات اسی وسیع قومی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ آیا یہ مہم آنے والے ہفتوں میں مزید سخت شکل اختیار کرے گی یا نہیں، اس کا دارومدار انٹیلی جنس رپورٹس اور دہلی دھماکے کی تحقیقات کے نتائج پر ہوگا۔ تاہم فی الحال یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ وادی میں سکیورٹی مشینری فل اسپیڈ پر کام کر رہی ہے اور کسی بھی خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کا عزم رکھتی ہے ۔یو این آئی

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اننت ناگ میں پولیس کا گاڑیوں کے ڈیلرز پر اچانک چھاپہ

Next Post

سیلاب‘ پاکستانی شیلنگ سے متاثرہ کنبوں کیلئے نئے مکانات کی تعمیر کا سنگِ بنیاد

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے
اہم ترین

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

2026-06-04
شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین
اہم ترین

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

2026-06-04
 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری
اہم ترین

 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری

2026-06-04
اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط
اہم ترین

اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط

2026-06-04
ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی

2026-06-04
دہشت گردی سے متعلق مقدمے  میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے
اہم ترین

دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
اہم ترین

وزیر اعلیٰ حکومت کو وفاداری کی پریڈوں تک  محدود کر رہے ہیں: شرما

2026-06-04
Next Post
’دہشت گردی کے عناصر کا مکمل خاتمہ ضروری

سیلاب‘ پاکستانی شیلنگ سے متاثرہ کنبوں کیلئے نئے مکانات کی تعمیر کا سنگِ بنیاد

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.