واشنگٹن، 19 نومبر (یو این آئی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی’ قرار دیا جا رہا ہے ۔
ڈان نیوز کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بلیک ٹائی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہآج رات، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم سعودی عرب کو باضابطہ طور پر اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دے کر اپنے عسکری تعاون کو ایک نئی بلندی تک لے جا رہے ہیں، جو ان کے لیے بہت اہم ہے ۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اور میں اب پہلی مرتبہ آپ کو یہ بتا رہا ہوں، کیونکہ وہ آج کی رات کے لیے اسے تھوڑا سا راز رکھنا چاہتے تھے ‘، یہ وہ درجہ ہے جو اس سے پہلے صرف 19 ممالک کو دیا گیا ہے ۔
پولیٹیکو کے مطابق، اس فہرست میں شامل دیگر ممالک میں اسرائیل، اردن، کویت اور قطر بھی شامل ہیں۔ اس حیثیت سے امریکہ کے شریک ملک کو عسکری اور اقتصادی مراعات ملتی ہیں، مگر اس میں امریکہ کی جانب سے کسی قسم کی سلامتی کی ضمانت شامل نہیں ہوتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں نے سعودی عرب کو مزید محفوظ بنا دیا ہے ۔
اسی دوران، محمد بن سلمان نے اس سے قبل یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری کو ایک کھرب ڈالر تک بڑھائیں گے ، جبکہ اس سے پہلے مئی میں ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر 600 ارب ڈالر کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے کوئی تفصیلات یا ٹائم فریم نہیں بتایا۔
عشائیے میں خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پُرتپاک استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعلق تقریباً نو دہائیوں پہلے شروع ہوا تھا اور اس دوران دونوں ممالک ایک ساتھ کام کرتے رہے ہیں، لیکن آج کا دن خاص ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کا افق پہلے سے کہیں زیادہ بڑا اور وسیع ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایسے معاہدوں پر بھی دستخط کر رہے ہیں جو تعلقات کو مزید گہرا کریں گے ۔
الگ سے جاری کی گئی وائٹ ہاؤس کی ایک فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ایک تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں روک تھام کی قوت کو مضبوط کرتا ہے ، امریکی دفاعی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب میں کام کرنا آسان بناتا ہے اور امریکی اخراجات میں کمی کے لیے سعودی عرب کی جانب سے نئے مشترکہ مالی تعاون کو یقینی بناتا ہے ۔
یہ معاہدہ بظاہر اس نیٹو طرز کے معاہدے سے کم تر ہے جس کی سعودی عرب نے ابتدا میں خواہش ظاہر کی تھی اور جسے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوتی۔







