نہیں صاحب اللہ میاں جھوٹ نہ بلوائیے ہم سے ،اس کا تو کہیں کوئی وعدہ ‘ کوئی عہد و پیماں ‘کوئی معاہدہ ‘ کوئی سمجھوتہ اور نہ تذکرہ… کہیں کوئی تذکرہ نہ تھا… لیکن پھر بھی لداخ نے مرکزی حکومت کو جو میمورنڈم پیش کیا ہے اس میں سب سے اہم مطالبہ… مطالبات ‘جو دو اہم مطالبات سامنے آئے ہیں وہ ریاستی درجہ اور دفعہ ۳۷۱ کے تحت آئینی تحفظات ہیں … اب آئینی تحفظات تو ہم سمجھ سکتے ہیں… حالانکہ جب ہمیں یہ دستیاب تھے… ۳۷۰ کی شکل میں تو … تو لداخ نے انہیں نہیں سمجھا … بالکل بھی نہیں سمجھا …خیر! آئینی تحفظات تو ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن… لیکن ریاستی درجے کی مانگ یقینا ہمارے سر کے اوپر سے جا رہی ہے… اورا س لئے جا رہی ہے کہ لداخ روز اول سے یو نین ٹیریٹری کا درجہ چاہتا تھا… روز اول سے… ۲۰۱۹میں اس کی یہ دیرینہ خواہش پوری بھی ہو ئی … لیکن اب نہ جانے کیوں اس نے اس مانگ کو اپنا پہلا مطالبہ بنا لیا ہے اور… اور شدت کے ساتھ اس کی وکالت کررہا ہے… اسے مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت میںمرکزی نقطہ بنا لیا ہے… صاحب ایک بات تو طے ہے اور…اور وہ یہ ہے کہ ہم لداخ کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں… بالکل بھی نہیں رہ سکتے ہیں… اور اسلئے نہیں رہ سکتے ہیں… کہ یہ اس چیز کا مطالبہ کررہا ہے… اس پر اپنی نظرے جمائے بیٹھا ہے جو چیز اس کی ہے ہی نہیں… جو اس کیلئے بنی ہی نہیں ہے… لیکن پھر بھی یہ اس کی آرزو اور جستجو کررہا ہے اور … اور ایک آواز میں کررہا ہے… بار بار کررہا ہے… اور ایک ہم ہیں کہ… کہ ہماری لئے یہ چیز بنی ہوئی ہے… روز اول سے بنی ہو ئی ہے‘ موجود ہے‘ اس کا کہیں نہ کہیں ایک وجود ہے … وعدہ بھی ہے‘ عہد و پیماں بھی ہے …یقین دہانیاں بھی ہیں… لیکن اگر کچھ نہیںہے تو… تو وہ ہمارا عزم نہیں ہے‘ سیاسی بصیرت نہیں ہے‘ ویژن نہیں ہے… اتحاد اور یکجہتی نہیں ہے… اس لئے کوئی بڑی بات نہیں ہوگی… بالکل بھی نہیں ہو گی اگر ہم … ہم اور آپ دیکھتے ہی رہیں گے … ہاتھ ملتے ہی رہیں گے اور… اور لداخ وہ لے جائیگا جس کا اس سے کوئی وعدہ نہ تھا … کوئی عہد و پیماں نہ تھا … ہے نا؟



