راجناندگاؤں، 18 نومبر (یواین آئی) چھتیس گڑھ کے راجناندگاؤں شہر کی پوش کالونی سن سٹی میں ڈیجیٹل اریسٹ’ کے ذریعے دھوکہدہی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ امریکہ سے آئی ایک این آر آئی خاتون کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کا افسر بن کر جعلسازوں نے دھوکا دیا اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا خوف دکھا کر مختلف بینک کھاتوں میں 80 لاکھ روپے ٹرانسفر کروا لیے ۔
بینک ملازمین کی بار بار کی وارننگ کے باوجود خاتون نے خوف کے سبب اتنی بڑی رقم جعلسازوں کے کھاتوں میں منتقل کردی۔
کوتوالی تھانہ انچارج نند کشور گوتم نے منگل کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ این آر آئی خاتون شیلا سو بال کے پاس ایک فون کال آئی۔ کال کرنے والے شخص نے خود کو سی بی آئی افسر بتایا اور خاتون کو ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی جانچ شروع کرنے کی دھمکی دی۔ اس کے فوراً بعد ایک اور کالر نے خود کو تفتیشی افسر بتاتے ہوئے متاثرہ خاتون سے رابطہ کیا۔
اس شخص نے خاتون سے کہا کہ تفتیش مکمل ہونے تک ان کے تمام بینک کھاتوں میں موجود رقم کو اس کے بتائے گئے کھاتوں میں محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس نے یقین دلایا کہ تفتیش میں کوئی گڑبڑی نہ ملنے پر پوری رقم واپس ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی جائے گی۔
‘ڈیجیٹل اریسٹ’ اور قانونی کارروائی کے خوف سے خاتون جعلسازوں کی باتوں میں آ گئی۔ بینک ملازمین نے بار بار خاتون کو اتنی بڑی رقم ٹرانسفر نہ کرنے کے بارے میں سختی سے سمجھایا، لیکن خوف کے باعث انہوں نے کسی کی نہ سنی اور اپنے مختلف بینک کھاتوں میں موجود کل 80 لاکھ روپے ٹھگوں کے فراہم کردہ اکاؤنٹ نمبروں پر ٹرانسفر کر دیے ۔
کوتوالی پولیس نے متاثرہ خاتون کی شکایت پر متعلقہ موبائل نمبروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے ۔ ٹی آئی گوتم نے بتایا کہ پولیس اس بڑے سائبر فراڈ کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے ۔









