سرینگر/۱۸ نومبر
حالیہ دہلی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے، جموں و کشمیر اپنی پارٹی (جے کے اے پی) نے منگل کو کہا کہ اس کے مرتکب افراد کو ضرور سزا دی جائے۔پارٹی نے مرکز سے اپیل کی کہ ’وائٹ کالر‘ انتہاپسندی کی جڑیں شناخت کر کے اس کا حل نکالا جائے۔
سابق وزیر الطاف بخاری کی سربراہی والی اس پارٹی نے ۱۰ نومبر کو نئی دہلی میں پیش آئے اس واقعے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے، جس میں ۱۵؍ افراد ہلاک ہوئے اور یہ بات سامنے آئی کہ کچھ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس میں ملوث تھے۔
یہاں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ یہ حملہ خوفناک تھا اور ذمہ داران کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔
بخاری نے کہا کہ اجلاس کے دوران پارٹی رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں کار بلاسٹ کی مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بامعنی عوامی رسائی اور بات چیت کا آغاز کرے تاکہ خطے میں دیرپا امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
اپنی پارٹی کے سربراہ نے قرارداد پڑھتے ہوئے کہا’’اپنی پارٹی نئی دہلی میں لال قلعے کے نزدیک ہونے والے حالیہ دھماکے کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ہم اس خوفناک حملے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔
بخاری نے کہا’’اس وحشیانہ دہشت گرد حملے کی ہر ایک کو انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے، اور ذمہ داروں کو ایسی سزا ملنی چاہیے جو سب کے لیے ایک واضح مثال بنے‘‘۔
قرارداد میں کہا گیا کہ پارٹی اس بات پر گہری تشویش رکھتی ہے کہ دہلی دھماکے میں کچھ تعلیم یافتہ افراد کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اس میں کہا گیا’’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد سرگرمیوں میں وائٹ کالر افراد کی شمولیت کا بڑھتا ہوا رجحان نہایت تشویشناک ہے اور اسے ہر قیمت پر روکا جانا چاہیے۔ دہشت گردی سے سختی سے نمٹنا ضروری ہے، لیکن لوگوں کے دل جیتنے کے لیے ان کے ساتھ رابطہ قائم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے‘‘۔
پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر تحقیقات کرے اور یہ پتہ لگائے کہ کون سی وجوہات تعلیم یافتہ افراد کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کی طرف دھکیلتی ہیں، اور پھر ان مسائل کا مؤثر حل نکالے۔
قرارداد میں کہا گیا’’دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے، لیکن معاشرے میں انتہاپسندی کو روکنے کے لیے مضبوط عوامی رسائی بھی اتنی ہی اہم ہے‘‘۔
پارٹی نے کہا کہ وہ سمجھتی ہے کہ نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان ایک ’عدم اعتماد‘ موجود ہے، جسے دور کیا جانا چاہیے اور اس خلاء کو پْر کرنا ناگزیر ہے۔
ایک اور قرارداد میں کہا گیا’’ایسا عدم اعتماد صرف تشدد کو پنپنے کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔ اپنی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ معزز وزیر اعظم اور معزز وزیر داخلہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام تک پہنچنے اور بات چیت شروع کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اسے مزید تاخیر کے بغیر پورا کیا جائے‘‘۔
پارٹی نے جمعہ کو نوگام پولیس اسٹیشن میں ہونے والے حادثاتی دھماکے پر بھی گہرے غم و افسوس کا اظہار کیا۔پارٹی نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، اور یہ خطہ اور اس کے لوگ ایک انتہائی حساس دور سے گزر رہے ہیں۔
نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ حکمرانی بہتر بنانے کے وعدوں کے باوجود موجودہ حکومت ’واضح طور پر اس حوالے سے ناکام رہی ہے‘۔ بخاری نے جموں و کشمیر میں فوری طور پر پنچایت اور شہری بلدیاتی انتخابات کرانے، اور ڈیلی ویجرز کی مستقلی کا بھی مطالبہ کیا۔
ندائے مشرق خبر










