سرینگر/۱۸ نومبر
بھارت نے منگل کے روز کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر روپ کے خلاف ’زیرو ٹالرینس‘ کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ اس کیلئے نہ کوئی جواز ہے، نہ آنکھیں پھیرنے کی گنجائش، اور نہ ہی کسی طرح کی پردہ پوشی قابلِ قبول ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا’’بھارت نے ثابت کیا ہے کہ ہمیں اپنے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے، اور ہم یہ حق ضرور استعمال کریں گے‘‘۔
جے شنکر نے کہا کہ بھارت سمجھتا ہے کہ ایس سی او کو بدلتی ہوئی عالمی صورتِ حال کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، اپنی ترجیحات میں توسیع کرنا ہوگی اور کام کے طریقۂ کار میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ان کاکہنا تھا’’ہم ان تمام اہداف کے حصول کے لیے بھرپور اور مثبت کردار ادا کریں گے‘‘۔
شنگھائی تعاون تنظیم ۲۰۰۱ میں روس، چین، کرغیزستان، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان کے صدور نے قائم کی تھی۔ بھارت اور پاکستان۲۰۱۷ میں اس کے مستقل رکن بنے، جبکہ ایران ۲۰۲۳میں بھارت کی میزبانی میں ہونے والی ورچوئل کانفرنس کے دوران اس کا نیا مستقل رکن بنا۔
جے شنکر نے یاد دلایا کہ ایس سی او کی بنیاد دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے رکھی گئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ خطرات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا’’دنیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کے ہر روپ کے خلاف زیرو ٹالرینس دکھائے۔ اس کے لیے کوئی دلیل، کوئی چشم پوشی اور کوئی سفید پوشی قابلِ قبول نہیں‘‘۔
بھارتی وزیرِ خارجہ نے عالمی اقتصادی صورتِ حال پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ موجودہ حالات غیر معمولی طور پر غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ سے بھرے ہوئے ہیں۔ رسد کے خطرات میں مطالبے کی پیچیدگیوں نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔
جے شنکر نے کہا’’اس ماحول میں ضروری ہے کہ معاشی خطرات کو کم کیا جائے اور تنوع لایا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ وسیع اقتصادی روابط قائم کیے جائیں‘‘۔
اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کیلئے کوششیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
جے شنکر نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی شناخت بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ حقیقی تعلقات کی بنیاد عوامی روابط ہوتے ہیں۔’’ہمارے دانش وروں، فنکاروں، کھلاڑیوں اور ثقافتی شخصیات کے درمیان زیادہ سے زیادہ تبادلے سے ایس سی او کے اندر باہمی فہم میں اضافہ ہوگا۔‘‘
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیر کو کہا کہ دہلی کے لال قلعے کے نزدیک ہونے والے مہلک دھماکے کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں، انہیں ‘‘جہنم سے بھی ڈھونڈ نکالا جائے گا’’ اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
تفتیش کاروں نے دہلی دھماکے کو ایک پیچیدہ ’وائٹ کالر‘ دہشت گردانہ ماڈیول قرار دیا ہے، جس کی قیادت اْن ڈاکٹروں کے ایک گروہ نے کی جنہیں حال ہی میں جموں و کشمیر پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
اس سے قبل مرکزی کابینہ نے دہلی دھماکے کو ’بہیمانہ دہشت گردانہ واقعہ‘ قرار دیا تھا۔دہلی لال قلعہ دھماکہ ایک بارودی مواد سے بھری کار میں ہوا، جسے ڈاکٹر عمر نبی چلا رہے تھے۔ وہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ کے رہائشی تھے اور ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی کے جنرل میڈیسن شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سرینگر میں جاسربلال وانی کو گرفتار کیا ہے، جو خودکش بمبار عمر ان نبی کا ’فعال شریکِ سازش‘ تھا۔
ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ قاضی گنڈ، اننت ناگ کے رہائشی وانی نے مبینہ طور پر ڈرونز میں تبدیلی کرکے اور راکٹ تیار کرنے کی کوشش کرکے دہشت گردانہ حملوں کے لیے تکنیکی مدد فراہم کی تھی، اور یہ سرگرمیاں مہلک کار دھماکے سے کچھ ہی عرصہ قبل کی گئی تھیں۔
این آئی اے نے عمر ان نبی‘ جو لال قلعے کے نزدیک کار پھٹنے کے وقت گاڑی چلا رہے تھے‘کو ’خودکش بمبار‘قرار دیا ہے۔
(ندائے مشرق ڈیسک )










