سرینگر/۱۹ نومبر
کشمیر میں منگل کی شب سردی نے مزید شدت اختیار کرلی، اور پہلگام اس موسم کی سب سے سرد جگہ ثابت ہوا جہاں رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی۸ء۲ ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق یہ درجہ حرارت معمول سے۷ء۰ ڈگری کم ہے اور رواں سیزن کی سب سے نمایاں گراوٹ ہے۔
کپوارہ اور سرینگر میں بھی سردی نقطہ ٔانجماد سے نیچے جا پہنچی، اور دونوں مقامات پر منفی ۸ء۱ ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ درجہ حرارت اس وقتِ سال کے نارمل اوسط سے خاصا کم ہے۔
گلمرگ، وادی کا مشہور اسکی ریزورٹ، میں کم سے کم درجہ حرارت۰ء۲ ڈگری رہا، جو معمول سے کچھ زیادہ ہے، تاہم مجموعی طور پر وادی بھر میں سردی کی لہر برقرار ہے۔
دن کے وقت درجہ حرارت نسبتاً معتدل رہا۔ سرینگر نے ۳ء۱۶ڈگری کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جو معمول سے قدرے زیادہ ہے، جبکہ کپوارہ میں ۰ء۱۸ڈگری ریکارڈ ہوا، جو نومبر کے اوسط سے تقریباً تین ڈگری زیادہ ہے۔ گلمرگ میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۴ء۱۲ ڈگری رہا، جو وادی میں سب سے کم تھا۔
آئی ایم ڈی کے مطابق وادی میں خشک موسم کا سلسلہ آئندہ چند دن جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث راتیں مزید سرد رہیں گی، جبکہ جموں خطے میں دن کے وقت موسم قدرے گرم محسوس ہوگا۔
جموں شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۷ء۲۴ ڈگری ریکارڈ ہوا، جو پورے یونین ٹیریٹوری میں سب سے زیادہ تھا۔
شدید سردی نے عام لوگوں کو بھی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ راتوں کی ٹھنڈ میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی پیداوار میں کمی نے صورتحال مزید بگاڑ دی ہے، اور متعدد علاقوں میں برقی سپلائی میں بار بار تعطل سے عوام کو گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ سردی سے بچاؤ کے لیے ہیٹنگ کا استعمال بڑھا ہے جبکہ سپلائی میں گراوٹ سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
شدید سردی کے ساتھ بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ۲۴گھنٹوں میں کشمیر میں بجلی کی اوپری مانگ ۱۹۰۰ میگاواٹ سے بھی آگے بڑھ گئی ہے جبکہ مقامی پاور پلانٹس کی پیداوار تقریباً۷۵ فیصد کم ہوکر۲۸۰ سے ۳۸۰ میگاواٹ کے درمیان محدود ہو گئی ہے۔
سرکاری ذرائع نے کو بتایا کہ گزشتہ ۲۴ گھنٹوں میں کشمیر ڈویڑن میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب ۱۹۲۵ میگاواٹ رہی، جبکہ اسی مدت میں اوسط طلب۱۵۶۶ میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔جموںڈویڑن میں زیادہ سے زیادہ طلب۱۱۱۹ میگاواٹ اور اوسطاً ۸۸۵ میگاواٹ رہی۔
مقامی بجلی گھروں کی پیداوار کے حوالے سے اہلکار نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے پاور پلانٹس سے مجموعی طور پر۲۸۰سے۳۵۰ تا۳۸۰ میگاواٹ ہی پیدا ہو رہی ہے۔
پیر کے روز بگلہار، پی ڈی سی جموں اور کشمیر کے دیگر نجی بجلی گھروں (آئی پی پی) کی پیداوار ۳۰۰ سے۳۸۰ میگاواٹ کے درمیان رہی۔
اہلکار نے بتایا کہ رواں برس کے عروج کے موسم میں جموں و کشمیر ۱۱۰۰ میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرتا تھا، جو کل پیداواری صلاحیت ۴ء۱۱۹۷میگاواٹ کے قریب ہے۔
اکتوبر کے آخری ہفتے میں حکام نے بتایا تھا کہ مرکز کی جانب سے اضافی۸۰۰ میگاواٹ بجلی دستیاب کرائی گئی ہے۔حکام کاکہنا تھا ’’اس سال ہمارے پاس مرکزی پول سے مجموعی طور پر ۱۳۰۰ میگاواٹ ہیں۔ ہم دیگر ریاستوں کے ساتھ بینکنگ بھی شروع کر چکے ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










