سرینگر/۱۷نومبر
چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل اپیندرا دویدی نے پیر کو آپریشن سندور کو ۸۸ گھنٹوں کا ٹریلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم تو شروع ہی نہیں ہوئی تھی اور یہ ٹریلر مکمل فلم کی اسکریننگ سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان دوبارہ موقع فراہم کرتا ہے تو فوج پوری تیاری کے ساتھ اسے سبق سکھانے کیلئے تیار ہے۔
چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگ ۲۰۲۵ کے کرٹن ریزر سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ مسلح افواج مستقبل میں کسی بھی صورتحال سے سختی سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔
آپریشن سندور کے بارے میں انہوں نے کہا’’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ فلم تو شروع ہی نہیں ہوئی؛ صرف ایک ٹریلر دکھایا گیا، اور وہ ٹریلر ۸۸ گھنٹوں تک جاری رہا۔ جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے، ہم پوری طرح تیار ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’اگر پاکستان میں کوئی ہمیں دوبارہ ایسا موقع دیتا ہے تو ہم ضرور اسے سکھائیں گے کہ ایک ذمہ دار پڑوسی ملک کیسا برتاؤ کرتا ہے‘‘۔
ڈیٹرنس اور سیاسی فیصلہ سازی پر بات کرتے ہوئے جنرل دویدویدی نے کہا’’ڈیٹرنس عسکری صلاحیت اور سیاسی فیصلے کی قوت سے متعین ہوتا ہے۔ یہ تب ہی مؤثر ہوتا ہے جب مخالف اس بات پر یقین کرے کہ آپ جیسا کہہ رہے ہیں، ویسا ہی کریں گے۔ مخالف فریق آپ کی نیت کو سنجیدگی سے لے‘‘۔
جنرل دویدی نے کہا کہ ڈیٹرنس کا دوسرا پہلو وہ عسکری طاقت ہے جس سے آپ مخالف کو اتنی ہی سختی سے ضرب لگا سکیں جتنی آپ نے وارننگ دی ہو۔ ’’آج ہمارے پاس وہ بڑھتی ہوئی عسکری طاقت موجود ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ڈیٹرنس کام کر رہا ہے‘‘۔
پڑوسی ملک میں عدم استحکام کے اثرات پر بات کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا’’یہ فطری ہے کہ سرحد کے اْس پار جو کچھ ہوتا ہے، اس کا اثر ہم پر بھی پڑتا ہے۔ اگر کسی پڑوسی ملک میں عدم استحکام ہو تو ہمیں بھی اس کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ضرورت پڑنے پر مدد بھی فراہم کریں‘‘۔
آرمی چیف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ ’’دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس سال تقریباً۳۱ دہشت گرد مارے گئے ہیں جن میں سے۶۱ فیصد پاکستانی تھے۔ میرا مطلب ہے کہ اب کوئی سنگ بازی نہیں، کوئی نعرے بازی نہیں ‘سب ختم ہوچکا ہے‘‘۔
فوج کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا’’اس کے بعد سیاسی وضاحت آئی ہے۔ دہشت گردی میں بڑی کمی آئی ہے‘‘۔
ہندوستانی فوج نے سنٹر فار لینڈ وارفیئر اسٹڈیز (کلاز) کے ساتھ مل کر چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگ ۲۰۲۵ (سی ڈی ڈی ۲۰۲۵) کا کرٹن ریزر نئی دہلی کے میناکشا سینٹر میں منعقد کیا۔ یہ ڈائیلاگ۲۷/۲۸ نومبر کو ’ریفارم ٹو ٹرانسفارم: شاشکت، سرکشت اور وکست بھارت’ کے موضوع پر منعقد ہوگا۔
جنرل اپیندرا دویدی نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کو ایک ہی نظر سے دیکھے گا اور دہشت گردی کا جواب پوری سختی سے دے گا۔
پاکستان کی طرف سے سرحد پار دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ نئی دہلی، پاکستان سے نمٹنے کے لیے ’نیو نارمل‘ کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے اور اگر پاکستان بھارت مخالف دہشت گرد گروپوں کی مدد جاری رکھتا ہے تو یہ اس کے لیے چیلنج بنے گا۔
فوج کے سربراہ نے کہا’’بھارت ترقی اور خوشحالی پر توجہ دیتا ہے۔ اگر کوئی ہماری راہ میں رکاوٹیں ڈالے گا تو ہمیں اس کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’ہم نے کہا ہے کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے؛ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ ہم امن چاہتے ہیں اور امن کے عمل میں تعاون بھی کریں گے۔ لیکن اْس وقت تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو ایک جیسا ہی سمجھیں گے‘‘۔
جنرل دویدی نے کہا’’آج بھارت اس پوزیشن میں ہے کہ کسی کی بلیک میلنگ سے نہیں ڈرتا‘‘ جو کہ بظاہر پاکستان کے ایٹمی دباؤ کی طرف اشارہ تھا۔انہوں نے کہا’’دہشت گردی کے خلاف ہمارا نیا نارمل پاکستان کے لیے چیلنج ہوگا‘‘۔
آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران قیادت کی سطح پر مذاکرات کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










