سرینگر/۱۴نومبر
بڈگام ضمنی انتخاب کا نتیجہ اگر ایک لائن میں بیان کیا جائے تو یہ پی ڈی پی کی کامیابی سے زیادہ نیشنل کانفرنس کی ناکامی کی کہانی ہے۔
حکمران جماعت نے اس نشست کو بچانے کے لیے اپنی پوری مشینری جھونک دی تھی…وزراء سے لے کر ممبرانِ اسمبلی تک سب نے انتخابی مہم میں حصہ لیا، اور خود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حلقے میں بار دورے کیے۔ اس کے باوجود نتیجہ این سی کے ہاتھ سے پھسل گیا، جس نے پارٹی کے اندر گہری بے چینی اور خود احتسابی کی بحث چھیڑ دی ہے۔
این سی کا یہ حلقہ گزشتہ برس اسی پارٹی کے نائب صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے پاس تھا۔ یہ سیاسی برتری اس بار کسی اور نے نہیں، بلکہ خود این سی کے طرزِ حکمرانی، غلط فیصلوں اور غیر ضروری بیانات نے کمزور کر دی۔
بڈگام میں شکست کے پیچھے ایک نمایاں عنصر وہ اعتماد کی کمی بھی رہی جو عوام نے الیکشن سے عین پہلے عمر عبداللہ کے متضاد بیانات کی صورت میں محسوس کی۔
گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے پہلے عمرعبداللہ نے سمارٹ بجلی میٹروں کے نصب ہونے کے خلاف کھل کر موقف اختیار کیا تھا‘ مگر وزیر اعلیٰ بنے اور ضمنی الیکشن سے چند دن پہلے اچانک انہوں نے نہ صرف سمارٹ میٹروں کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کو بھی انہی میٹروں کی تنصیب سے مشروط کر دیا۔ یہ یوٹرن حلقے کے عوام کے لیے محض اعلان نہیں بلکہ ’’ڈس کنیکٹ‘‘ کی علامت ثابت ہوا۔
بہت سے ووٹرز نے کھلے لفظوں میں کہا کہ حکومت نے بجلی کے بحران، اضافی بلوں اور میٹرنگ کے معاملے پر عوامی تحفظات کو یکسر نظر انداز کیا۔ انتخابی مہم میں این سی کے بڑے لیڈروں کی موجودگی بھی اعتماد بحال نہیں کر پائی۔ عوام کے نزدیک یہ تمام سرگرمی ’’انتخابی ضرورت‘‘ تو دکھائی دی، لیکن ’’مسائل کے حل‘‘ کا روڈ میپ کہیں نظر نہ آیا۔
بھاری حکومتی موجودگی کے باوجود شکست نے یہ واضح کر دیا کہ عوامی ناراضی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سیاسی وزن اور انتخابی مشینری بھی نتیجہ پلٹنے میں ناکام رہی۔ پارٹی کے اندر بھی اس شکست کو ایک ’’الرٹ‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بڈگام کا نتیجہ بتا گیا کہ گورننس اور فیصلوں میں پیدا ہونے والا خلا محض تقاریر یا دوروں سے نہیں بھرتا۔
پی ڈی پی کے لیے یہ جیت یقیناً اہم ہے مگر اس کا اصل فائدہ این سی کی غلطیوں نے فراہم کیا۔ بڈگام کے ووٹروں نے حکومت کی کارکردگی، وعدوں سے انحراف اور پالیسیوں کے اچانک بدلنے پر اپنا غصہ ظاہر کیا، اور اس عمل میں پی ڈی پی محض وہ پلیٹ فارم بنی جس کے ذریعے عوام نے اپنا پیغام واضح کیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ۱۹۵۷ میں پہلی اسمبلی انتخابات کے بعد سے نیشنل کانفرنس اپنے اس مضبوط گڑھ‘وسطی کشمیر کے بڈگام‘میں ہار گئی ہے۔ چھ دہائیوں سے زیادہ وقت تک قائم رہنے والی یہ برتری اس بار ووٹروں نے غیر معمولی انداز میں مسترد کر دی۔
یہ پسپائی محض عددی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بڈگام پچھلے دو دہائیوں تک پارٹی کے اہم شیعہ چہرے اور موجودہ سرینگر کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کا مضبوط حلقہ رہا ہے۔ انہوں نے۲۰۰۲‘۲۰۰۸؍اور۲۰۱۴میں یہاں سے لگاتار تین بار کامیابی حاصل کی۔ ۲۰۲۴ میں وہ لوک سبھا پہنچ گئے اور اسمبلی انتخاب نہیں لڑا‘لیکن پھر ان کے اور پارٹی قیادت کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔
روح اللہ نے کئی پالیسی معاملات…خاص طور پر موجودہ ریزرویشن پالیسی، اسٹیٹ ہْڈ کی بحالی پر پارٹی کے نرم پڑتے مؤقف، اور آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی کے سوال پر مبہم رویے…پر کھل کر تحفظات ظاہر کیے۔ انہی اختلافات کے باعث انہوں نے ضمنی انتخاب میں پارٹی امیدوار آغا سید محمود…جو ان کے قریبی رشتے دار بھی ہیں…کے حق میں مہم نہیں چلائی۔ ایک بااثر شیعہ لیڈر کی اس عدم موجودگی کو مقامی سطح پر فیصلہ کن عنصر سمجھا جا رہا ہے۔
این سی قیادت، خاص طور پر چیف منسٹر عمر عبداللہ، نے اس خلا کو پْر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے آخری تین دن خود حلقے میں کیمپ کیا، وزرا، ایم ایل ایز اور سینئر لیڈروں کو بھی انتخابی مہم میں جھونک دیا‘لیکن ووٹروں کا رجحان تبدیل نہ ہو سکا۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ بڈگام کا نتیجہ پی ڈی پی کے احیاء سے کم اور نیشنل کانفرنس کی عوام سے دور ہوتی سیاسی زبان اور غیرمنظم حکمت عملی سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ اگر حکمران جماعت نے رفتار نہ بدلی تو بڈگام محض آغاز ہو سکتا ہے۔
(نمائندہ خصوصی)










