واشنگٹن/۱۳نومبر//
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک حکومتی فنڈنگ بل پر دستخط کیے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ 43 دن طویل شٹ ڈاؤن ختم ہوگیا۔ اس دوران وفاقی ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں، ہوائی اڈوں پر مسافروں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور کئی شہریوں کو کھانے کے بینکوں کا سہارا لینا پڑا۔
بل پر دستخط کرنے سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا،
‘‘آج ہم یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ ہم کبھی بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکیں گے۔’’
ان کے اس بیان پر اوول آفس میں موجود ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے تالیاں بجا کر حمایت ظاہر کی۔
یہ دستخط اس وقت ہوئے جب ریپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان نے صرف دو گھنٹے قبل بل کو 222 کے مقابلے میں 209 ووٹوں سے منظور کیا تھا۔ اس سے پہلے رواں ہفتے سینیٹ بھی بل کو منظور کر چکی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کے دستخط کے بعد شٹ ڈاؤن کے باعث فارغ بیٹھے وفاقی ملازمین جمعرات سے اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال سکیں گے۔
بل کے تحت 30 جنوری تک حکومت کے اخراجات کی منظوری دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ کا وفاقی قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر ہر سال تقریباً 1.8 ٹریلین ڈالر مزید بڑھتا رہے گا۔
اس بل میں شٹ ڈاؤن کے آغاز (یکم اکتوبر) سے برطرف کیے گئے وفاقی ملازمین کو بحال کرنے کی شق بھی شامل ہے، جب کہ مزید برطرفیوں پر پابندی اور مکمل بقایاجات کی ادائیگی کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔
محکمہ زراعت کے لیے منظور شدہ فنڈز کی بدولت کھانے پینے کی امدادی اسکیموں پر انحصار کرنے والے لاکھوں شہری اب باقی مالی سال میں بغیر کسی رکاوٹ کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیکیج میں قانون سازوں کی سیکورٹی کے لیے 203.5 ملین ڈالر اور سپریم کورٹ کے ججوں کی حفاظت کے لیے 28 ملین ڈالر اضافی مختص کیے گئے ہیں۔
رائٹرز نے کہا کہ شٹ ڈاؤن کے خاتمے سے ہوائی سفر سے متعلق خدمات میں بہتری کی امید ہے، خاص طور پر جب تھینکس گیونگ کی تعطیلات میں صرف دو ہفتے باقی ہیں۔
خوراک کی امداد کی بحالی سے ملینوں شہریوں کے گھریلو بجٹ میں کچھ گنجائش پیدا ہوگی، جس سے کرسمس سیزن کے دوران خرچ میں اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح شٹ ڈاؤن کے خاتمے سے آئندہ دنوں میں امریکی معیشت کے اعداد و شمار جاری کرنے والے سرکاری ادارے بھی اپنا کام دوبارہ شروع کر دیں گے۔








