بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home تازہ تریں

’دہشت گردی کے عناصر کا مکمل خاتمہ ضروری

’عوام کو چاہیے کہ وہ امن کے دشمنوں کو بے نقاب کریں‘ ان کے بارے میںسکیورٹی ایجنسیوں کو معلومات فراہم کریں‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-13
in تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’دہشت گردی کے عناصر کا مکمل خاتمہ ضروری

sinha

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

‘فلم ساز ایسی فلمیں بنائیں جو دہشت گردی کے متاثرین کے دکھ درد کو بیان کریں‘۲۰۱۹ کے بعد کی مثبت تبدیلیوں کو اجاگر کریں:سنہا

سرینگر/۱۲ نومبر
لیفٹیننٹ گورنر ‘منوج سنہا نے کہا ہے کہ معاشرے سے دہشت گردی کے ہر عنصر کا خاتمہ لازمی ہے تاکہ مکمل امن بحال کیا جا سکے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے عوام کے تمام طبقوں کا تعاون ناگزیر ہے۔
وہ بدھ کے روز سرینگر میں وومیدھ گروپ کے زیر اہتمام بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ ایسی فلمیں بنائیں جو دہشت گردی کے متاثرین کے دکھ درد کو بیان کریں، دہشت گردی کے نیٹ ورک کے سرغنہ عناصر کو بے نقاب کریں، اور اگست ۲۰۱۹ کے بعد ہونے والی مثبت تبدیلیوں کو اجاگر کریں۔
ایل جی نے کہا’’عوام کو چاہیے کہ وہ امن کے دشمنوں کو بے نقاب کریں اور ان کے بارے میں پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو اطلاع دیں تاکہ معاشرے میں چھپے دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے اور ہمسایہ ملک کے مذموم عزائم کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پچھلے پانچ چھ برسوں میں جموں و کشمیر پولیس، فوج، انٹیلی جنس اور سیکورٹی فورسز کی انتھک محنت، لگن اور قربانیوں کی بدولت آج جموں و کشمیر میں خوف سے پاک ماحول قائم ہوا ہے، جہاں نوجوانوں کو اپنے خوابوں اور خواہشات کو حقیقت میں بدلنے کا محفوظ اور معاون نظام فراہم کیا گیا ہے۔
ایل جی نے کہا’’سماج کو چاہیے کہ وہ اس امن، ترقی، خوشی اور نئی امید کی فضا کو محفوظ رکھنے کیلئے متحد ہو جائے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر یو ٹی انتظامیہ کی جانب سے فلم سازوں کیلئے سہولیات اور فلمی صنعت سے جموں و کشمیر کے دیرینہ تعلق کو بحال کرنے کیلئے کی گئی کوششوں کا ذکر کیا۔انہوں نے فلم سازوں سے اپیل کی کہ وہ تفریح اور سماجی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم رکھیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’سنیما ایک طاقتور ذریعہ ہے جو سماجی بیانیے تشکیل دیتا ہے، ثقافتی اتحاد کو فروغ دیتا ہے، اور ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے جذبے کو مستحکم کرتا ہے‘‘۔
سرینگر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ٹی آئی ایف ایف ایس ) کے چوتھے ایڈیشن کیلئے۲۰ ممالک سے ۱۰۰ سے زائد فلمیں موصول ہوئیں۔ ممتاز جیوری نے ۲۰ مختصر فلمیں، ۶ فیچر فلمیں اور ۴دستاویزی فلمیں نمائش کے لیے منتخب کیں۔ منتخب فیچر فلموں میں بھارت، پولینڈ، روس اور سری لنکا کی فلمیں شامل ہیں، جبکہ دیگر منتخب فلمیں امریکہ، فرانس، جرمنی، ترکی اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کی نمائندگی کرتی ہیں۔
تین روزہ یہ سنیما تقریب ثقافتی و تخلیقی ہم آہنگی کا مظہر ہے جو جموں و کشمیر کی فنکارانہ بحالی کی علامت بن کر ابھر رہی ہے۔ یہ میلہ دنیا بھر کے فلم سازوں اور شائقین کو ایک پلیٹ فارم پر لا رہا ہے اور خطے کو عالمی سطح پر تخلیقی تبادلے کے مرکز کے طور پر مضبوط کر رہا ہے۔
تقریب میں فیسٹیول ڈائریکٹرز روہت بھٹ اور راکیش روشن بھٹ، وائس چانسلر ایس کے یو اے ایس ٹی پروفیسر نذیر احمد گنائی، ڈویڑنل کمشنر کشمیر انشل گرگ، ڈی آئی جی سی کے آر راجیو پانڈے، ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو، وومیدھ گروپ، آوانتی فاؤنڈیشن، اور لینڈ مارک کرافٹس لمیٹڈ کے نمائندگان، معروف فنکاروں، فلمی شخصیات اور سنیما سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
اس سے پہلے دہلی میں لال قلعہ کار دھماکے میں ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز زور دے کر کہا کہ دہشت گردی نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
اسلامک یونیورسٹی کے فاؤنڈیشن وِیک سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ۱۰ نومبر کو لال قلعہ کار دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
سنہا نے کہا ’’میں۱۰ نومبر کو لال قلعہ کار دھماکے میں جان بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔ دہشت گردی امن و ترقی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور یہ عوام کے درمیان بھائی چارے اور اتحاد کو بھی کمزور کرتی ہے۔‘‘
ایل جی نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو تین دہائیوں تک تباہ کر دیا ہے۔
سنہا نے کہا کہ وادی کے نوجوان اب ترقی کی سمت میں اپنے خوابوں اور تمناؤں کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوابوں کی تعبیر دشمن عناصر اور ان کے سرپرستوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔انہوں نے کہا ’’آج ہمارا نوجوان اپنے خوابوں اور تمناؤں کو پورا کر رہا ہے، جو پڑوسی ملک اور اس کے چند حامیوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سیکورٹی ایجنسیوں کی مدد کریں اور ’’غیر سماجی عناصر‘‘ یا مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دیں۔
سنہا نے کہا ’’یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں موجود غیر سماجی عناصر کے بارے میں سیکورٹی فورسز کو مطلع کریں۔‘‘
ایل جی نے گزشتہ چند برسوں کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر نے گزشتہ پانچ چھ برسوں میں نمایاں امن کا تجربہ کیا ہے اور امن کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
سنہا نے مزید کہا، ’’آپ نے ایک نئی پہچان بنائی ہے۔ آپ نے اپنے خوابوں کو پورا کیا ہے۔ آپ نے انہیں زندہ رکھا ہے۔ آپ نے اس ماحول کو برقرار رکھا ہے۔ اس میں سیکورٹی فورسز، پولیس، انتظامیہ اور معاشرہ سب شامل ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی انتباہ دیا کہ ایسے واقعات کے پسِ پشت افراد کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا اور انہوں نے شہریوں کے تحفظ، امن و ترقی کے فروغ کیلئے انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔
سنہا نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی گئی ہے، اور اب نوجوان ماہرین کو ایسی ترقیاتی حکمت عملیوں پر توجہ دینی چاہیے جو خطے کی قسمت بدل سکیں۔
ایل جی نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں کے دوران انسانی سرمائے، تحقیق و ترقی، انکیوبیشن مراکز اور یونیورسٹیوں کے انفراسٹرکچر میں کی گئی بڑی سرمایہ کاری جموں و کشمیر کی اقتصادی ترقی کو رفتار دے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی۲۰۲۱ سے اب تک کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں داخلے، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن، پائیداری، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
سنہا نے کہا ’’۲۰۲۱ سے۲۰۲۵ کے درمیان تعلیمی پروگراموں کی تعداد ۴۱ سے بڑھ کر ۹۰ ہوگئی ہے، جن میں بین المضامینی اور جدید کورسز جیسے مصنوعی ذہانت ‘روبوٹکس، ’ڈیزائن یور اون ڈگری‘، خلائی ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس، اور اپرنٹس شپ پر مبنی بیچلر سطح کے ہنر کے کورسز شامل ہیں۔‘‘
ایل جی سنہا نے بتایا کہ مختلف مضامین میں داخلوں کی درخواستوں کی تعداد ۲۰۲۱ میں۳۰۰۰ سے بڑھ کر۲۰۲۵ میں ۷۶۰۰ تک پہنچ گئی ہے، اور اس میں جموں و کشمیر کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی طلبہ کی نمایاں شمولیت دیکھی گئی ہے۔
سنہا نے کہا کہ ۲۰۲۱ سے قبل اسلامک یونیورسٹی کو تحقیق کے لیے بیرونی فنڈنگ صرف دو کروڑ روپے سالانہ ملتی تھی، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں یہ فنڈنگ بڑھ کر۶۹کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے بتایا ’’۲۰۲۱ میں ایک بھی اسٹارٹ اپ موجود نہیں تھا، لیکن گزشتہ چار برسوں میں یونیورسٹی نے ۹۳؍ اسٹارٹ اپس کو انکیوبیٹ کیا، ۲۲۵ سے زائد انکیوبیٹس کی میزبانی کی، اور قابلِ فخر اختراعات کو فروغ دیا جن میں قابلِ تجدید توانائی، صحت عامہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبے شامل ہیں۔‘‘
سنہا نے مزید کہا ’’۳۲ پیٹنٹس منظور ہوچکے ہیں، ۷۷ شائع ہوئے ہیں جبکہ ۳۳ مزید دائر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، یونیورسٹی کے دو اساتذہ اپنے اپنے شعبوں میں ہندوستان کے سرکردہ سائنسدانوں میں شامل ہوئے ہیں، جو اسلامک یونیورسٹی کے لیے باعثِ فخر ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ کم لاگت اور توانائی کے لحاظ سے پائیدار مکانات کی تعمیر کے لیے تحقیق و اختراع کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کو سڑک اور عمارت سازی کے مواد کے مؤثر دوبارہ استعمال اور ’’کولڈ مکس‘‘ ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی کام کرنا چاہیے تاکہ زیادہ پائیدار سڑکیں بن سکیں۔
سنہا نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کو ایسے جدید مواصلاتی حل تیار کرنے چاہییں جن سے دور دراز علاقوں تک بغیر روایتی سگنل ٹاورز کے رسائی ممکن ہو سکے۔
تقریب میں شری شانت منو، ایڈیشنل چیف سکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، پروفیسر شکیل اے رومشو، وائس چانسلر آئی یو ایس ٹی، پروفیسر نیلوفر خان، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی، پروفیسر ایم اشرف گنی، ڈائریکٹر سکمز، پروفیسر اے ایچ مون، ڈین اکیڈمک افیئرز، پروفیسر عبد الواحد، رجسٹرار اسلامک یونیورسٹی، سینئر حکام، شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ شریک تھے۔(ندائے مشرق خبر)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

لال قلعہ دھماکہ: وزیر اعظم مودی کی زخمیوں سے ملاقات

Next Post

بجلی :ہم سمجھتے ہیں… لیکن !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

بجلی :ہم سمجھتے ہیں… لیکن !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.