سرینگر/۱۰نومبر
اتوار۹ نومبر کو پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی ‘ جس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پارلیمان چوہدری محمود بشیر ورک مشترکہ طور پر کر رہے ہیں ‘ نے عجلت میں آئین میں۲۸ویں ترمیم کی منظوری دے دی۔ تاہم اس ترمیم کے خلاف قانونی حلقوں اور دفاعی اداروں کے اندر سے بڑھتی ہوئی مخالفت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
۲۷ویں آئینی ترمیم کا سب سے حیران کن پہلو عمر بھر کے لیے دی جانے والی استثنا (امیونٹی) ہے، جو موجودہ عہدیداروں پر بھی لاگو ہوگی ‘ بشمول پاکستان کے صدر اور آرمی چیف کے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس استثنا کو وزیرِ اعظم کے عہدے تک توسیع دینے کی کسی بھی کوشش کو روک دیا۔یہ طرزِ عمل غیر معمولی عدمِ تحفظ کو ظاہر کرتا ہے، جو شاید عمران خان کی سیاسی قسمت کے ممکنہ احیاء کے خدشے سے جڑا ہوا ہے، چاہے وہ مستقبل کتنا ہی دْور کیوں نہ ہو۔
اسلام آباد پوسٹ کے حوالے سے ایک دلچسپ ٹویٹ سامنے آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا’’پاکستانی فوج اور جنرل عاصم منیر کے درمیان اندرونی اختلافات نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں‘‘۔اگرچہ یہ ٹویٹ نہ تو اس اخبار کے پرنٹ ایڈیشن میں شائع ہوئی اور نہ ہی ویب سائٹ پر، مگر اس میں کہا گیا کہ’’چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے مجوزہ عہدے پر جاری بحث اب محض انتظامی اصلاح نہیں رہی، بلکہ اثر و رسوخ، طاقت اور حکمتِ عملی کے خدشات کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے‘‘۔
ظاہر ہے کہ دفاعی اداروں کے اندر چار دھڑے ابھر آئے ہیں۔
پہلا دھڑا، جو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حمایت کرتا ہے، یہ سمجھتا ہے کہ متحدہ دفاعی ڈھانچے کی قیادت کا حق ایک مضبوط فوجی رہنما کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بری فوج کا تجربہ رکھنے والا چیف آف ڈیفنس فورسز ہی فضائیہ اور بحریہ کی صلاحیتوں کو زمینی آپریشنز کے ساتھ مؤثر طور پر ہم آہنگ کر سکتا ہے۔دوسرا دھڑا، جو فضائیہ اور اس کے حامیوں کی نمائندگی کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ جدید جنگ ٹیکنالوجی، فضائی طاقت، ڈرونز اور درست نشانہ بازی سے جیتی جاتی ہے، نہ کہ بڑی بری افواج سے۔
ان کے خیال میں فضائیہ پاکستان کا سب سے جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ دفاعی ادارہ ہے، جس نے حالیہ تنازعات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ان کی نظر میں فوج اس شعبے پر بھی کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے، جس میں اس کی تکنیکی مہارت محدود ہے۔
تیسرا دھڑا، جو زیادہ تر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک ہے، اس تبدیلی کو’انتظامی یا آئینی بغاوت‘ قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام غیر ضروری ہے کیونکہ’’پاکستان کے پاس پہلے ہی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (جے سی ایس سی) موجود ہے، جو تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بناتی ہے‘‘۔
یہ دھڑا کہتا ہے ’’یہ نیا مجوزہ ڈھانچہ حقیقی اصلاح نہیں بلکہ طاقت کو مرکزیت دینے اور فوج کو قومی سلامتی اور حکمرانی کے ڈھانچوں پر مستقل غلبہ دینے کی کوشش ہے‘‘۔
چوتھا دھڑا خبردار کرتا ہے کہ اگر ایٹمی فیصلوں اور مجموعی عسکری کمان کو ایک ہی دفتر میں مرکوز کر دیا گیا تو پاکستان عالمی دباؤ کے لیے زیادہ کمزور ہو جائے گا‘ چاہے وہ امریکہ، برطانیہ یا چین کی طرف سے ہو۔پاکستان کی عسکری کمان کے اس مجوزہ ازسرِ نو ڈھانچے کو دہائیوں میں سب سے بڑی اور شاید سب سے متنازع تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹائرڈ جنرلوں، جیسے لیفٹیننٹ جنرل عاصم یاسین ملک ‘ جو سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور دفاعی سیکریٹری رہ چکے ہیں‘کا کہنا ہے کہ آرٹیکل۲۴۳ میں عجلت میں تبدیلی کرنا نہ صرف شہری و فوجی طاقت کے نازک توازن کو بگاڑ سکتا ہے بلکہ ادارہ جاتی ثقافتوں سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس ترمیم پر عملدرآمد اس کے مسودہ نویسوں کی توقع سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
جنرل ملک نے خبردار کیا’’جب ایک فوجی افسر کو چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر فضائیہ اور بحریہ پر اختیار دے دیا جائے گا تو یہ ادارہ جاتی عدمِ توازن اور ممکنہ تباہی کو دعوت دے گا، خاص طور پر جب یہ ترمیم بظاہر کسی ایک فرد کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہو‘‘۔
گزشتہ چار دہائیوں سے چیئرمین، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ( سی جے سی ایس سی) تینوں افواج … بری، بحری اور فضائی … کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ایک علامتی سربراہ کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔عملی طور پر یہ کردار زیادہ تر رسمی نوعیت کا رہا، خاص طور پر ۱۹۹۷ کے بعد سے، جب فوج نے یہ عہدہ فضائیہ یا بحریہ کو دینے سے گریز شروع کر دیا۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق یہ عہدہ ۲۷ نومبر ۲۰۲۵کو ختم کر دیا جائے گا ‘ وہی دن جب موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل ساحر شمشاد مرزا ریٹائر ہونے والے ہیں۔
مئی ۲۰۲۳ کے پرآشوب دنوں میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر جنرل مرزا کو اس وقت عاصم منیر کے خلاف اقدام پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جب وہ ملک سے باہر تھے۔ مگر جنرل مرزا نے اس وقت غیر جانبدارانہ رویہ اپنایا۔
حالیہ دنوں میں جنرل مرزا سنگاپور (شانگری لا ڈائیلاگ)، بنگلہ دیش اور سعودی عرب کے دوروں میں مصروف رہے ہیں۔ اگرچہ یہ دورے رسمی نوعیت کے دکھائی دیتے ہیں، تاہم ایسے پس منظر میں ریٹائر ہونا، جب ان کا عہدہ خود ختم ہونے جا رہا ہے، فوج کے سینئر افسران میں اچھا تاثر نہیں چھوڑے گا، خاص طور پر ان کے لیے جو فیلڈ مارشل عہدے کی جانب دیکھ رہے ہیں جبکہ جنرل عاصم منیر غیر معینہ مدت تک آرمی چیف کے طور پر برقرار ہیں۔
پاکستانی ماہرینِ تعلیم نے یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کے خاتمے کے بعد اس کے فرائض کون سنبھالے گا؟اور اگر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تو سویلین رہنماؤں اور سینئر دفاعی افسران کے درمیان پروٹوکول یا درجہ بندی کیا ہوگی؟
یہ تنقید پاکستان کی عسکری ثقافت کے بنیادی حصے پر ضرب لگاتی ہے، جہاں فوج، فضائیہ اور بحریہ کے درمیان دیرینہ رقابتیں ہمیشہ موجود رہی ہیں ‘ ہر ایک اپنے آپریشنل دائرہ کار اور نظریے کی حفاظت کرتا آیا ہے۔
ان مختلف روایات‘فضائیہ کے تیز اور غیرمرکزی فیصلوں کے انداز بمقابلہ فوج کی درجہ بند زنجیرِ کمان…کو ہم آہنگ کرنا ہمیشہ سے ’مشترکہ اصلاحات‘کی کمزور کڑی رہی ہے۔
اختلافات کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر تجویز کیا گیا ہے کہ نئے نظام میں فضائیہ اور بحریہ کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں، بجٹ، اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی و تبادلے کے اختیارات برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔
تاہم مئی۲۰۲۵ کے بعد فیلڈ مارشل کے طور پر اپنی بلندی کے زعم میں مبتلا جنرل عاصم منیر آیا واقعی ایک’خیر خواہ، سب پر فوقیت رکھنے والے رہنما‘ کے طور پر ابھریں گے یا نہیں ‘یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










