یہ کارروائیاں دہشت گردی کے مقامی انفراسٹرکچر اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں:ترجمان
سرینگر/۸نومبر
جموںکشمیر پولیس نے ہفتہ کو وادی کے مختلف علاقوں میں ایک وسیع کارروائی انجام دیتے ہوئے اُن مقامی افراد کے خلاف چھاپے مارے جو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشت گردوں کی مدد کر رہے تھے ۔ یہ کارروائی ریاست بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ بتائی جا رہی ہے ۔
سرکاری ذرائع کے مطابق چھاپے اننت ناگ، شوپیاں، کولگام، بڈگام، گاندربل، سوپوراور ہندواڑہ کے علاقوں میں مارے گئے ۔
اننت ناگ ضلع میں پولیس نے پہلگام کے لیور علاقے میں کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کے خودساختہ آپریشنل کمانڈر غلام نبی عرف عامر خان اور تنظیم کے مالی سربراہ ظفر بٹ کے آبائی گھروں پر چھاپے مارے ۔
حکام کے مطابق، خان اور بٹ۱۹۹۰کی دہائی میں اپنے گھروں سے فرار ہوکر پاکستان چلے گئے تھے اور وہیں سے ہند مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ہندواڑہ میں پولیس نے اُن افراد کے گھروں اور احاطوں کی تلاشی لی جو اس وقت پاکستان سے سرگرم دہشت گردوں کے رشتہ دار یا قریبی ساتھی ہیں، یا جن کے روابط کالعدم تنظیموں سے پائے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ یہ کارروائیاں اس بات کا سراغ لگانے کے لیے کی گئیں کہ آیا علاقے کے اندر سے ان دشمن عناصر کو کسی قسم کی مالی، مادی یا مواصلاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے ۔
کولگام میں بھی ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا جو سرحد پار اپنے رشتہ داروں کے کہنے پر دہشت گردی کی مالی معاونت یا سہولت کاری میں ملوث تھے ۔کئی ایسے رشتہ داروں اور ساتھیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جو مسلسل بھارت مخالف سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہے تھے ، جن میں لاجسٹک سپورٹ، پروپیگنڈا پھیلانا اور بھرتی میں تعاون شامل ہے ۔
سوپور میں پولیس نے اوور گراؤنڈ ورکرز اور پاکستان میں بیٹھے دہشت گرد ہینڈلرز کے مقامی رابطوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا۔ متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے ۔
حکام نے بتایا کہ ان افراد سے ان کے رابطوں، مالی ذرائع اور پاکستان میں موجود ہینڈلرز کے ساتھ مواصلاتی چینلز کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں دہشت گردی کے مقامی انفراسٹرکچر اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ متعدد مشتبہ افراد کو احتیاطی حراست کے تحت ذیلی جیلوں میں بند کیا گیا ہے ، جبکہ دیگر کے خلاف سکیورٹی کی دفعات کے تحت کارروائی جاری ہے تاکہ وہ مستقبل میں دشمن عناصر کی مدد نہ کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق سوپور پولیس ضلع کے متعدد مقامات پر چھاپے جاری ہیں اور ٹیمیں مقامی دہشت گرد نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے سرگرم ہیں۔
گاندربل پولیس نے ہفتہ کو پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں سرگرم کشمیری دہشت گردوں کے مقامی نیٹ ورکس کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ یہ کارروائی اُن عناصر کے خلاف کی گئی جو ریاست میں تخریبی اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق، مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ضلع گاندربل کے۶۰مختلف مقامات پر بیک وقت تلاشی لی گئی۔
یہ کارروائیاں اُن افراد کو نشانہ بناتی ہیں جو سرحد پار موجود اپنے رشتہ داروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ضلع میں دہشت گردی کی مالی معاونت، سہولت کاری اور فروغ میں ملوث پائے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق، کارروائی کے دوران متعدد ایسے افراد،جو پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے رشتہ دار یا قریبی ساتھی ہیں-کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں جیسے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا، دہشت گرد بھرتی میں مدد دینا اور بھارت مخالف پروپیگنڈا پھیلانا میں شامل تھے ۔
پولیس نے چھاپوں کے دوران ڈیجیٹل آلات اور قابلِ اعتراض مواد کی ایک بڑی کھیپ بھی ضبط کی، جسے اہم سراغ حاصل کرنے کے لیے تفصیلی طور پر جانچا جا رہا ہے ۔ گاندربل پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے پورے سپورٹ نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑنے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
پولیس ترجمان کے مطابق جو بھی عناصر دہشت گردوں کی مدد یا حمایت میں ملوث پائے جائیں گے ، انہیں قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
پولیس نے مزید کہا کہ گاندربل ضلع میں امن، استحکام اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اُس کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کیلئے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔









