عمرعبداللہ حکومت کی ’یوزڈ واٹر منیجمنٹ پروجیکٹ‘ کو بھی منظوری ‘گاندربل میں ایس ٹی پی تعمیر کیا جائیگا
سرینگر/ ۶ نومبر
جموں و کشمیر حکومت نے خطے کی ثقافت، روزگار اور ماحولیات کے تحفظ کو یکجا کرتے ہوئے دو اہم اقدامات کی منظوری دی ہے۔ ایک طرف ’چیف منسٹرز اسکیم فار انٹروڈکشن آف ہیریٹیج کورسز‘ کے ذریعے روایتی دستکاریوں کو نئی زندگی دینے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف ’یوزڈ واٹر منیجمنٹ پروجیکٹ‘ کے تحت پائیدار صفائی اور آبی وسائل کے تحفظ پر عملی قدم بڑھایا گیا ہے۔
اسکل ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت متعارف کی گئی ’’چیف منسٹرز اسکیم‘‘ میں سات روایتی دستکاری کورسز کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ یہ کورسز جموں و کشمیر کے سرکاری آئی ٹی آئیز اور پالی ٹیکنک اداروں کے۲ ۵ یونٹوں میں چلائے جائیں گے، جہاں تقریباً ۵۰۰ طلبہ کو داخلے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق، تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کو وظیفہ اور انسٹرکٹرز کو اعزازیہ دیا جائے گا تاکہ ہنر مند نوجوانوں کو نہ صرف سیکھنے بلکہ کمانے کے مواقع بھی میسر ہوں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم روایتی ہنر کو جدید مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے جاری پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ہنر پر مبنی معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔’’یہ اسکیم ان ہنرمندوں کی نئی نسل تیار کرے گی جو ہماری روایات کو نہ صرف زندہ رکھیں گے بلکہ عالمی سطح پر انہیں پہچان دلائیں گے‘‘۔
اسی کے ساتھ حکومت نے ’یوزڈ واٹر منیجمنٹ پروجیکٹ‘ کو بھی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت گاندربل قصبے میں ۹۹ء۱۹ کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جدید ’سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی)‘ تعمیر کیا جائے گا۔ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی کو صاف کر کے دوبارہ قابلِ استعمال بنائے گا اور آلودگی سے دریاؤں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ منصوبہ صرف ایک انجینئرنگ پروجیکٹ نہیں بلکہ ماحول دوست طرزِ زندگی کی طرف پیش رفت ہے۔ صاف پانی اور صحت مند ماحول، دونوں عوامی صحت اور خطے کی پائیدار ترقی کے لیے بنیادی عناصر ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا’’یہ منصوبہ استعمال شدہ پانی کے مؤثر علاج کو یقینی بنائے گا، ہمارے دریاؤں کو صاف رکھے گا اور عوامی صحت و صفائی کے نظام میں بہتری لائے گا‘‘۔
جموں و کشمیر میں یہ دونوں فیصلے حکومت کے اس وڑن کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ترقی کو ثقافتی شناخت سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طرف قدیم دستکاریوں کو تعلیمی اداروں کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب ماحولیات اور صفائی کے نظام میں پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے سائنسی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو یہ نہ صرف ہزاروں نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں گے بلکہ ریاست کے سماجی و ثقافتی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنائیں گے۔
جموں و کشمیر کے لیے یہ اقدامات محض سرکاری اسکیمیں نہیں بلکہ ایک بڑے بیانیے کی علامت ہیں …ایک ایسا بیانیہ جو ماضی کے ورثے، حال کی ضرورت اور مستقبل کی سمت کو ایک ساتھ باندھتا ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو وادی نہ صرف اپنی ثقافتی پہچان کو محفوظ رکھے گی بلکہ ترقی کے نئے ماڈل کے طور پر بھی ابھر سکتی ہے۔(ندائے مشرق خبر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










