سرینگر/۵نومبر
سرینگر کے پرانے فتح کدل علاقے میں دوران شب آتشزدگی کے ایک ہولناک واقعے میں۲رہائشی مکان خاکستر ہوگئے ۔
ذرائع نے بتایا کہ پرانے فتح کدل علاقے میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب آگ نمودار ہوئی جس کے شعلوں کو دور دور سے دیکھا جا سکتا تھا اور اس واقعے سے علاقے میں ہر سو خوف و ہراس کو ماحول پھیل گیا۔
محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے ایک عہدیدار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی کے متعلق اطلاع موصول ہوتے ہی مختلف فائر اسٹیشنوں سے فائر ٹنڈرس کو جائے موقع پر روانہ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آگ کو قابو میں کر لیا گیا تاہم اس واقعے میں۲رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ ایک فائر مین زخمی ہوگیا۔زخمی فائر مین کی شناخت محمد رفیق کے طور پر ہوئی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ آگ لگ لگنے کی وجوہات معلوم کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ فتح کدل علاقے میں ہی آتشزدگی کے ایک واقعے میں۶رہائشی مکان خاکستر یوئے تھے ۔
جموں و کشمیر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے سردیوں کے موسم میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر عوام کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے ، جس میں شہریوں سے احتیاطی تدابیر اپنانے اور چوکسی برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے ۔
دریں اثنا بدھ کی شام راج باغ کے ہیٹ ٹرک کے نزدیک واقع میٹرو انٹرنیشنل کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے جیو دفتر سے شروع ہو کر جموں و کشمیر بینک کی شاخ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق واقعے کے فوراً بعد فائر ٹینڈرز کو موقع پر روانہ کیا گیا۔ فائر فائٹنگ ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس اور ہنگامی امدادی عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا تاکہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔آگ لگنے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سردیوں میں ہیٹنگ آلات اور گیس اسٹوو وغیرہ کے زیادہ استعمال کے سبب اکثر آگ لگنے کے واقعات پیش آتے ہیں، لہٰذا عوام کو چاہئے کہ وہ درج ذیل ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
محکمہ نے ہدایت دی ہے کہ تمام برقی ہیٹنگ آلات، بخاری، اور ایل پی جی گیس اسٹوو کو سونے سے قبل یا گھر سے نکلنے سے پہلے بند کر دیا جائے ۔ اسی طرح کانگڑی کا استعمال احتیاط سے کیا جائے اور رات کے وقت اسے محفوظ جگہ پر رکھا جائے تاکہ کسی حادثے کا خدشہ نہ رہے ۔
ویب ڈیسک










