سرینگر/۴نومبر
جموں کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی)نے ضلع بڈگام میں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ تعمیر کرنے کے معاملے میں بدعنوانی اور سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔
یہ کارروائی ایک شکایت کی بنیاد پر کی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ اَریگام میں ایک شخص نے سرکاری چراگاہ (کاہچرائی) زمین پر غیر قانونی تعمیرکھڑی کی ہے ۔
بیورو کی جانب سے کی گئی ابتدائی جانچ میں انکشاف ہوا کہ علی محمد خان ولد ثنااللہ خان ساکن اَریگام بڈگام نے جون۲۰۲۰میں کہچرائی زمین (سروے نمبر ۵۳۵) پر پٹرول پمپ تعمیر کیا۔ اس نے مبینہ طور پر لائسنس حاصل کرنے کے لیے حقائق میں ہیرا پھیری کی اور حکام کو گمراہ کیا۔
تحقیقات سے مزید معلوم ہوا کہ سال۲۰۱۸میں اس شخص کو پٹرول پمپ کے لیے این او سی اس وقت کے پٹواری، نائب تحصیلدار اَریگام اور تحصیلدار خانصاحب کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ این او سی میں زمین کے اصلی نوعیت کو چھپایا گیا اور یہ حقائق جان بوجھ کر درج نہیں کیے گئے کہ متعلقہ زمین تک رسائی صرف (کاہچرائی) زمین کے راستے سے ہی ممکن تھی۔
یہ بھی سامنے آیا کہ پٹواری نے ریکارڈ تیار کرتے وقت سروے نمبر۵۳۲(شاملات زمین) کو بھی چھپایا اور موقعے کی زمینی حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ مارچ ۲۰۱۸میں اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر بڈگام کی جانب سے وضاحت طلب کیے جانے پر بھی فیلڈ عملے نے جھوٹا بیان دیا کہ مقام نقل و حمل اور ایندھن کے ذخیرے کیلئے موزوں ہے ۔
ان گمراہ کن رپورٹس اور این او سیز کی بنیاد پر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر بڈگام نے۲۲مئی۲۰۲۰کو پٹرول پمپ کا لائسنس ری کیا، حالانکہ لائسنس میں درج زمین کے دو سروے نمبر(۵۳۱؍اور۵۳۳) آپس میں منسلک نہیں تھے ۔ اس وقت کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ خانصاحب نے بھی بغیر خود موقع معائنہ یا ریکارڈ کی جانچ کے رپورٹ آگے بھیج دی۔
بیورو کا کہنا ہے کہ متعلقہ ریونیو افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اور فائدہ اٹھانے والے شخص کے ساتھ ملی بھگت میں ریاستی زمین پر قبضہ کروایا اور اسے غیر قانونی مالی فائدہ پہنچایا۔
اینٹی کرپشن بیورو نے اس معاملے میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ۱۲۰بی (مجرمانہ سازش) اور انسدادِ رشوت ستانی ایکٹ۱۹۸۸کی دفعہ ۷(ترمیم شدہ۲۰۱۸) کے تحت مقدمہ نمبر ۲۰۲۵/۲۱پولیس اسٹیشن اے سی بی سری نگر میں درج کیا ہے ۔
ترجمان کے مطابق، اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس دوران انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ضلع سانبہ میں ایک پٹواری کو رشوت لیتے وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے ۔ کارروائی کے دوران پٹواری کی گاڑی سے ۳۵لاکھ روپے سے زائد نقدی بھی برآمد کی گئی، جس کے بعد پورے ضلع میں سنسنی پھیل گئی۔
سرکاری بیان کے مطابق، اے سی بی نے پٹواری حلقہ دادوئی و ضلع سانبہ کے سنیل کمار کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر۲۰۲۵/۱۹زیر دفعہ۷؍انسدادِ بدعنوانی ایکٹ ۱۹۸۸کے تحت درج کیا۔ یہ مقدمہ ایک شہری کی شکایت پر درج کیا گیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مذکورہ پٹواری نے گرداوری کی تصحیح سے متعلق رپورٹ تیار کرنے کے عوض ایک لاکھ روپے رشوت طلب کی تھی۔ بعد ازاں معاملہ۸۰ہزار روپے پر طے پایا۔
شکایت کنندہ نے بتایا کہ وہ صرف۲۰ہزار روپے ادا کرنے کی پوزیشن میں تھا، تاہم وہ رشوت دینے کے بجائے اے سی بی سے رجوع کر گیا۔ شکایت موصول ہونے پر بیورو نے خفیہ جانچ کی، جس میں پٹواری کی جانب سے رشوت طلب کرنے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد باضابطہ مقدمہ درج کر کے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔
تحقیقات کے دوران اے سی بی ٹیم نے پٹواری سنیل کمار کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ کارروائی آزاد گواہوں کی موجودگی میں انجام دی گئی، اور رشوت کی رقم موقع پر برآمد کر لی گئی۔ ٹیم نے قانونی ضوابط کی پاسداری کے ساتھ ملزم کو گرفتار کیا۔
مزید جانچ کے دوران جب ملزم کی ذاتی گاڑی کی تلاشی لی گئی تو۳۵لاکھ روپے سے زائد کی نقدی برآمد ہوئی۔ اس کے بعد بیورو نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں پٹواری کے رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر مزید شواہد اکٹھے کیے ۔
انسدادِ بدعنوانی بیورو کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ کارروائی ریاست میں بدعنوان عناصر کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے ، جس کا مقصد عوامی نظام کو شفاف اور جوابدہ بنانا ہے ۔
بیورو کے مطابق، مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ برآمد شدہ رقم رشوت کی کمائی ہے یا کسی اور غیر قانونی سرگرمی سے حاصل کی گئی۔
اے سی بی نے عوام کو یقین دلاتا ہے کہ کوئی بھی سرکاری اہلکار اگر بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ رشوت خوری کے خلاف آواز بلند کریں اور فوری طور پر اے سی بی سے رابطہ کریں۔
(یو این آئی)










