نامی گرامی کھلاڑیوں اور بین الاقوامی ایمپائروں کی ادائیگی کئے بغیر بیچ ٹور نامنٹ منتظمین غائب ‘خیالی لیگ کو انتظامی تعاون بھی حاصل رہا
سرینگر/۳نومبر
تقریباً ایک ہفتے تک ’’انڈین ہیون پریمیئر لیگ‘‘ (آئی ایچ پی ایل ) میدان میں اچھی چلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی …کرس گیل جیسے اسٹار کھلاڑی رنز بنا رہے تھے، ہنسی مذاق کر رہے تھے، مقامی کھلاڑیوں سے بات چیت میں مصروف تھے ‘ لیکن باؤنڈری لائن کے باہر حالات کچھ گڑبڑ نظر آنے لگے۔ ٹوئنٹی۲۰ کرکٹ ٹورنامنٹ دیکھنے کیلئے میدان میں شائقین تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے۔
اور ہفتے کے آخر تک سب کچھ اچانک ختم ہو گیا، ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اور نیوزی لینڈ کے جیس رائیڈر جیسے کھلاڑی ادھورے یا بغیر معاوضے کے رہ گئے۔
پنجاب کے موہالی میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ’یْووا سوسائٹی‘ کے زیر اہتمام یہ لیگ منعقد کی گئی تھی، جسے حکام کی طرف سے کچھ انتظامی تعاون بھی حاصل تھا، جیسے سیکورٹی اور طبی ایمرجنسی کی سہولتوں کو یقینی بنانا۔
یہ ٹورنامنٹ۲۵؍ اکتوبر کو بڑی دھوم دھام سے شروع ہوا تھا اور۸ نومبر تک جاری رہنا تھا۔
سرینگر اور دیگر علاقوں میں جگہ جگہ لگے بورڈوں پر ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اور ڈیون اسمتھ، حتیٰ کہ بنگلہ دیش کے شکیب الحسن جیسے کھلاڑیوں کی تصویریں آویزاں تھیں۔ یہ لیگ آئی پی ایل اور دیگر ٹوئنٹی۲۰ لیگز کی طرز پر تیار کی گئی تھی، جس میں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں اور لداخ کے نام پر آٹھ ٹیمیں بنائی گئی تھیں۔
ان بورڈوں پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی مقامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ زیادہ تر میچ بخشی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے جہاں وقفوں کے دوران بلند آواز میں موسیقی بجتی رہی، پی ٹی آئی کے مطابق۔
بالآخر ۱۲ میچ کھیلے جا سکے، اور ۱۳واں میچ‘ جو ’’اْوڑی پینتھرز‘‘ اور ’’گلمرگ رائلز‘‘ کے درمیان ہونا تھا ‘ اتوار، یکم نومبر کو اس لیے نہ ہو سکا کہ کوئی منتظم میدان میں نہیں آیا۔
کھلاڑیوں نے ادائیگی نہ ہونے پر کھیلنے سے انکار کر دیا، اور اطلاعات کے مطابق اْس وقت تک گیل اور دیگر بڑے کھلاڑی کشمیر چھوڑ چکے تھے۔ منتظمین خود بھی غائب ہو گئے، جس پر ہوٹل انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو رخصت ہونے سے روک لیا تاکہ ان کے واجبات ادا ہو سکیں۔
کرس گیل اْن کئی کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے ۲۰۲۴ میں کشمیر میں ہونے والی ’’لیجنڈز لیگ‘‘ کرکٹ میں حصہ لیا تھا۔ یہ ایونٹ بھی نجی نوعیت کا تھا، بالکل آئی ایچ پی ایل کی طرح، مگر اْس وقت شائقین کی بڑی تعداد میدانوں میں اْمڈ آئی تھی کیونکہ تقریباً ۴۰ برس بعد انہیں بین الاقوامی کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔
پی ٹی آئی کے مطابق، ’یْووا سوسائٹی‘ کے چیئرمین کے طور پر درج پرمندر سنگھ شاید اْس کامیاب لیگ سے متاثر ہو کر آئی ایچ پیا یل کے انعقاد کے خیال سے مائل ہوئے۔یْووا سوسائٹی نے جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل کی ملکیت باکشی اسٹیڈیم کو بْک کیا اور کرایہ پیشگی ادا کیا۔
جن آٹھ ٹیموں نے اس ’ٹورنامنٹ‘ میں حصہ لیا ان میں سری نگر سلطانز، جموں لاینز، لداخ ہیروز، پلوامہ ٹائٹنز، پٹنی ٹاپ واریئرز، کشتواڑ جائنٹس، اور اْن کے علاوہ اْوڑی پینتھرز اور گلمرگ رائلز۔ ہر ٹیم میں ایک سابق بین الاقوامی کھلاڑی شامل تھا۔
لیکن اس کے باوجود تماشائی نہیں آئے۔ یہاں تک کہ آخری میچ، جس میں گیل نے ۸۸ رنز کی طوفانی اننگز کھیلی، بھی تقریباً خالی اسٹیڈیم میں ہوا۔
یہ خبر اس وقت منظر عام پر آئی جب ایک برطانوی خاتون ایمپائر میلیسا جنیپر نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں معاوضہ نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے عملے نے انہیں ’’غائب منتظمین‘‘ کے بارے میں اطلاع دی۔ اگرچہ پولیس نے ہوٹل کا دورہ کیا، مگر پی ٹی آئی کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کوئی کارروائی عمل میں آئی یا نہیں۔
لیکن یہ کہانی شاید اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو۔ اب یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ جن منتظمین کے پاس اس پیمانے کی لیگ منعقد کرنے کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں تھا، انہیں بخشی اسٹیڈیم کے استعمال کی اجازت کیسے دی گئی؟
اسپورٹس کونسل کی سیکریٹری نْزہت گل نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ منتظمین نے رقم ادا کی تھی۔ گل کاکہنا تھا ’’میرا آئی ایچ پی ایل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں تو افتتاحی تقریب میں صرف بطور مہمان موجود تھی‘‘۔
یْووا سوسائٹی نے اپنی ویب سائٹ پر آئی ایچ پی ایل کے اعلان کے دوران سابق کرکٹرز سورندر کھنہ اور آشو دانی کی تصاویر استعمال کیں، مگر ان کے کردار کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ کچھ رپورٹس میں بتایا گیا کہ وہ ’’مینٹر‘‘ تھے۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔










