سرینگر/۳نومبر
وادیٔ کشمیر کی مشہور زعفران صنعت جو صدیوں سے یہاں کی معیشت، ثقافت اور شناخت کا حصہ رہی ہے ، امسال شدید بحران سے دوچار ہے ۔
کاشتکاروں کے مطابق اگرچہ اس سال موسم زعفران کی کاشت کیلئے موافق رہا‘ تاہم پیداوار میں غیر معمولی کمی نے ان کو سخت مالی مشکلات کے بھنور میں پھنسا دیا ہے ۔انہوں نے امسال پیداوار میں غیر معمولی کمی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔
پلوامہ کے مشہور زعفران کاشتکار نثار احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا’’زعفرانی صنعت کی تباہی میں سب سے بڑا کردار متعلقہ سرکاری محکموں کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے ،اگر حکومت نے بروقت اریگیشن سسٹم (آبپاشی کے نظام) کو فعال بنایا ہوتا، تو آج وادی میں زعفران کی یہ قیمتی صنعت زوال کا شکار نہ ہوتی‘‘۔
احمد نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا’’سال۲۰۱۱۔۲۰۱۰میں مرکزی سرکار نے’ زعفران مشن‘کے تحت کروڑوں روپے کی خطیر رقم جموں و کشمیر حکومت کو فراہم کی تھی تاکہ زعفرانی اراضی میں آبپاشی کے جدید نظام کو متعارف کرایا جائے ‘‘۔
انہوں نے کہا’’تب بھی اریگیشن کا مسئلہ اہم تھا اور آج بھی وہی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ متعلقہ ایجنسیاں اس مشن کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے میں ناکام رہیں‘‘۔
احمد نے بتایا’’زعفران مشن کا مقصد یہ تھا کہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنا کر زعفرانی کھیتوں کو خشک سالی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے ۔ تاہم، زمینی سطح پر اس منصوبے کا کوئی نمایاں اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نہ تو آبپاشی کے نظام میں بہتری آئی، نہ ہی زعفرانی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی مؤثر قدم اٹھایا گیا‘‘۔
زعفران کاشتکار نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی نے اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ،گزشتہ سال بھی پیداوار اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی سرکاری اعداد و شمار میں ظاہر کی گئی۔
ان کے مطابق، غیر متوقع بارشوں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے زعفران کے پھولوں کی افزائش پر براہِ راست منفی اثر ڈالا ہے ۔
احمد نے واضح طور پر کہا’’پانپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کسی بھی جگہ نہ تو کوئی بڑی انڈسٹری موجود ہے اور نہ ہی زمین کی کھدائی کی جا رہی ہے ‘‘۔ان کے بقول، اصل مسئلہ پانی کی عدم دستیابی اور زمین کی کمزور ہوتی زرخیزی ہے ، نہ کہ صنعتی سرگرمیاں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت زعفران کے کھیتوں کو پانی فراہم کرے تو کیا اس صنعت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے ، تو نثار احمد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’اب یہ صنعت زوال پذیر ہو چکی ہے ۔ اگر حکومت آج سے بھی کام شروع کرے ، تو بھی اس کو بچانا بہت مشکل ہے ۔ زمین کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے ، اور پھولوں کی پیداوار میں وہ قوت نہیں رہی جو پہلے تھی‘‘۔
زعفران نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک کنال زمین سے تقریباً دو کلو زعفران کے پھول نکلے تھے ، لیکن امسال صرف آدھا کلوگرام پھول ہی حاصل ہوا۔یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زعفران کی صنعت کتنی تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے ۔
پلوامہ ضلع کے پانپور علاقے کے کسان مشتاق احمد، جو گذشتہ دو دہائیوں سے زعفران کی کاشت سے وابستہ ہیں، نے یو این آئی کو بتایا کہ اس سال کسانوں میں امید تھی کہ موسم کی بہتر صورتحال کے باعث فصل عمدہ ہوگی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ان کے بقول،’’امسال بارش بھی مناسب ہوئی، گرمی بھی موسم کے مطابق رہی، اور تمام قدرتی حالات سازگار تھے ، اس کے باوجود زعفران کے پھول بہت کم نکلے ‘‘۔
زعفران کشمیر کی ایک قدیم ترین اور قیمتی فصل مانی جاتی ہے ، جس کی کاشت بنیادی طور پر پانپور، کھریو، وئن، اور پلوامہ کے دیگر علاقوں میں ہوتی ہے ۔زعفران کشمیرکو بین الاقوامی سطح پر جغرافیائی اشاریہ جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے ، جو اس کی انفرادیت اور معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرتا ہے ۔
مشتاق احمد نے یو این آئی کو بتایا’’اس سال قدرتی طور پر ہر چیز بہتر رہی۔ موسم بھی ساز گار رہا اور ہم نے امید کی تھی کہ اس بار زعفران کی اچھی فصل نکلے گی، مگر ایسا نہیں ہوا‘‘۔
مشتاق نے کہا’’ہمارے پاس۱۶کنال زعفران کی اراضی ہے ۔ پچھلے سال اس اراضی سے تقریباً ۳۰کلوگرام زعفران کے پھول نکلے تھے ، جب کہ اس سال بمشکل ایک کلوگرام پھول حاصل ہوئے ہیں‘‘۔ان کے مطابق زعفران کی کم پیداواری کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے ۔
انہوں نے کہا’’پانپور اور اس کے مضافات میں اراضی مافیا سرگرم ہے جو قیمتی زعفرانی زمینوں سے مٹی نکال کر دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے ‘‘۔انہوں نے مزید بتایا ’’آس پاس علاقوں میں قائم فیکٹریاں بھی فضائی اور زمینی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے زعفران کی افزائش کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے ‘‘۔
مشتاق نے بتایا کہ حال ہی میں چیف سیکریٹری کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں زعفرانی اراضی کی کھدائی کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ۔انہوں نے کہا’’یہ ایک خوش آئند قدم ہے ، مگر زمینی سطح پر اب تک کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ کھدائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی صرف کاغذوں تک محدود ہے ‘‘۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت نے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو زعفران کی یہ صنعت ’مکمل زوال‘کا شکار ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا’’سرکار کو چاہیے کہ پانپور اور ملحقہ علاقوں میں زعفرانی زمینوں کی کھدائی پر مکمل پابندی عائد کرے ، فیکٹریوں سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کو کنٹرول کرے ، اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے عملی منصوبہ بندی کرے ‘‘۔
مشتاق احمد کے مطابق، سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے دورِ حکومت میں زعفرانی اراضی پر کسی بھی قسم کی تعمیر یا زمین کے استعمال میں تبدیلی پر مکمل پابندی تھی۔اس وقت غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا تھا اور زعفران کے تحفظ کے لیے حقیقی کوششیں کی گئی تھیں، مگر آج صورت حال اس کے برعکس ہے ۔
انہوں نے مزید کہا’’متعلقہ محکمے یا تو غیر فعال ہیں یا صرف خانہ پوری کر رہے ہیں۔ اس صنعت سے وابستہ ہزاروں خاندان اس وقت مالی بدحالی کا شکار ہیں‘‘۔
مشتاق کے مطابق، انہوں نے اس سال زعفران کی کاشت پر تقریباً دو لاکھ روپے خرچ کیے ، مگر ساری رقم ضائع ہو گئی۔انہوں نے کہا’’پانی دینا، زمین صاف کرنا، کھاد ڈالنا، مزدور رکھنا سب کچھ کیا، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس سال صرف دو فیصد پیداوار حاصل ہوئی ہے ، جو کچھ نہ ہونے کے برابر ہے ‘‘۔
ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو زعفران کی زمینیں آنے والے پانچ سے سات برسوں میں بنجر ہو سکتی ہیں۔
دریں اثنا، یو این آئی نے اس حوالے سے جب چیف ایگریکلچر آفیسر پلوامہ، وحید الرحمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ زعفران کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ان کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے ۔
آفیسر کے مطابق گزشتہ سال موسمِ سرما میں برف باری نہ ہونے کے برابر تھی، جس کا براہِ راست اثر زمین کی نمی اور زرخیزی پر پڑا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر عوامل ہیں جو اس فصل پر منفی اثرات مرتب ہونے کے باعث ہیں۔










