سرینگر/۳۱؍ اکتوبر
مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کو کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آرٹیکل ۳۷۰ کو منسوخ کر کے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا متحدہ بھارت کا خواب پورا کیا۔
ملک کے پہلے وزیرِ داخلہ سردار پٹیل کی۱۵۰ویں سالگرہ کے موقع پر میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں ’رن فار یونٹی‘ کو جھنڈی دکھاتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ آزادی کے بعد برطانوی حکومت نے ہندوستان کو۵۶۲ ریاستوں میں تقسیم شدہ حالت میں چھوڑا تھا۔
شاہ نے کہا ’’اس وقت دنیا بھر کو یقین تھا کہ ان۵۶۲ ریاستوں کو ایک ملک میں ضم کرنا ناممکن ہے۔ لیکن سردار پٹیل نے قلیل مدت میں یہ عظیم کارنامہ انجام دیا اور آج جو جدید ہندوستان کا نقشہ ہم دیکھتے ہیں، وہ ان کی بصیرت اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔‘‘
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ کچھ ریاستیں انضمام سے ہچکچا رہی تھیں، مگر سردار پٹیل نے ہر مسئلہ عزم و حوصلے سے حل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی وجہ سے جموں و کشمیر مکمل طور پر بھارت میں ضم نہیں ہو پایا تھا، اس لیے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یہ تاریخی قدم اٹھا کر سردار پٹیل کا خواب پورا کیا اور آج ہمارے پاس ’اکھنڈ بھارت‘ ہے۔
شاہ نے کہا کہ کانگریس کی حکومتوں نے سردار پٹیل کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔ ’’یہ افسوس کی بات ہے کہ اتنی بڑی شخصیت کو بھارت رتن ایوارڈ بھی آزادی کے ۴۱سال بعد دیا گیا۔ نہ ان کے لیے کوئی یادگار بنائی گئی اور نہ ہی کوئی مجسمہ،‘‘ انہوں نے کہا۔
وفاقی وزیر داخلہ’’یہ نریندر مودی ہی تھے جنہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ’اسٹیچو آف یونٹی‘ کا تصور پیش کیا اور سردار پٹیل کے اعزاز میں یہ شاندار یادگار تعمیر کی۔ اس کا سنگِ بنیاد ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۳ کو رکھا گیا۔‘‘
شاہ نے بتایا کہ ۱۸۲میٹر بلند یہ مجسمہ محض ۵۷ مہینوں میں تیار ہوا، جس کے لیے پورے ملک کے کسانوں کے اوزاروں سے لوہا اکٹھا کر کے تقریباً ۲۵ ہزار ٹن دھات حاصل کی گئی۔’’۹۰ ہزار مکعب میٹر کنکریٹ اور ۱۷۰۰ ٹن سے زیادہ کانسی استعمال کر کے یہ ناقابلِ فراموش یادگار تعمیر کی گئی، جو آج بھارتی انجینئرنگ کا ایک عظیم شاہکار بن چکی ہے۔‘‘
شاہ نے کہا کہ اب تک ملک اور بیرونِ ملک سے ڈھائی کروڑ سے زیادہ لوگ ’اسٹیچو آف یونٹی‘ کا دورہ کر چکے ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے پٹیل چوک پر سردار پٹیل کے مجسمے پر پھول چڑھائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں انہوں نے سردار پٹیل کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ’’قومی اتحاد، سالمیت اور کسانوں کے بااختیار ہونے کی علامت‘‘ قرار دیا۔
شاہ نے لکھا، ’’سردار صاحب نے ریاستوں کے انضمام کے ذریعے ملک کی وحدت اور سلامتی کو مضبوط کیا، کسانوں، پسماندہ طبقات اور محروم طبقوں کو کوآپریٹیو تحریک سے جوڑ کر ملک کو خود کفیل اور خود انحصار بنانے کی بنیاد رکھی۔‘‘
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سردار پٹیل کا پختہ یقین تھا کہ ملک کی ترقی کی بنیاد کسانوں کی خوشحالی میں ہے۔
’’انہوں نے اپنی ساری زندگی کسانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ ہر محب وطن کا فرض ہے کہ وہ اس ملک کی حفاظت کرے جو سردار صاحب نے عدل و اتحاد کی بنیاد پر بنایا۔‘‘
مودی حکومت۲۰۱۴ سے۳۱؍ اکتوبر کو ’رشٹریہ ایکتا دیوس‘ کے طور پر منا رہی ہے تاکہ ملک کی وحدت، سالمیت اور تحفظ کے عزم کو مضبوط کیا جا سکے۔
ہندوستان کے پہلے وزیرِ داخلہ اور نائب وزیرِ اعظم کے طور پر سردار پٹیل کو۵۵۰ سے زائد ریاستوں کو بھارت میں ضم کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔
ملک بھر میں سردار پٹیل کے کارناموں کو یاد کرنے کے لیے متعدد پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ گجرات کے کیواڑیا میں ان کے مجسمے کے سامنے ایک شاندار پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سلامی لی۔
(ویب ڈیسک)










