سرینگر/۳۱؍ اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج قمروری میں دریائے جہلم پر تعمیر شدہ پی ایس سی گرڈر ڈبل لین نور جہاں پل کا افتتاح کیا، جو سری نگر شہر کے دونوں کناروں کے درمیان ٹریفک کی بھیڑ کم کرنے اور قمروری کو نورباغ سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ نالہ مار روڈ کی طرف ایک اہم رابطے کے طور پر کام کرے گا۔
۷۷ء۱۲ کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ شہر کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور خاص طور پر گنجان آبادی والے قمروری اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
پل کے افتتاح کے بعد ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اس پل کی بنیاد میں نے رکھی تھی اور۱۱ سال بعد ہماری حکومت واپس آئی ہے تاکہ اسے مکمل کرے اور آج اسے عوام کے نام وقف کیا جا رہا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا ’’حکمرانی میں درپیش رکاوٹوں کے باوجود میری حکومت ترقی، وقار اور امن کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ ہم اپنے وعدوں کو پورا کرنے اور جموں و کشمیر کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر لانے کیلئے پرعزم ہیں۔‘‘
ریاستی درجہ کی بحالی کے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس کی بحالی کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا اور کہا کہ مرکزی قیادت کی جانب سے اس کا وعدہ کئی مواقع پر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ’’لوگوں نے پچھلے سال کے انتخابات میں بھرپور شرکت کی کیونکہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں تھی جس نے اس کی بحالی کی بات نہ کی ہو۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے یہ عزم بھی دہرایا کہ ان کی حکومت سری نگر کی بڑھتی ہوئی شہری آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پائیدار اور مؤثر ٹرانسپورٹ ڈھانچے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت کے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے اور انتظامیہ شہریوں کے جائز مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ ’’اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد ہم عوام کے سامنے پیش ہوں گے تاکہ وہ ہماری کارکردگی کا خود جائزہ لیں۔‘‘
اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سورندر چودھری، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایم ایل اے عیدگاہ مبارک گل، ایم ایل اے سینٹرل شالٹنگ طارق حمید قرہ کے علاوہ متعلقہ محکموں کے کئی سینئر افسران اور اہلکار موجود تھے۔
نور جہاں پل کا افتتاح نہ صرف موجودہ ٹریفک جام کو کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ مسافروں، تاجروں اور مقامی رہائشیوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرے گا اور سری نگر کے اس مصروف علاقے میں عوام کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائے گا۔










