سرینگر/۲۸؍اکتوبر
جموں کشمیر حکومت نے انکشاف کیا کہ اچھن لینڈ فل سائٹ پر جمع شدہ ۱۱لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کچرے کی بائیو مائننگ اور سائنسی صفائی کا عمل شروع کیا جا چکا ہے ‘ جو مارچ ۲۰۲۸تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔
ایوان میں رکنِ اسمبلی مبارک گل نے ایک تحریری سوال میں کہا کہ روزانہ تقریباً ۵۵۰ٹن کچرا اچھن میں پھینکا جاتا ہے ، جس سے بدبو، ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل گرین ٹریبونل اور دیگر ادارے کئی مرتبہ صفائی اور تدارکی منصوبوں کی تاخیر پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
حکومت نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن نے اب ایک جامع’سائنسی ویسٹ مینجمنٹ پلان‘تیار کیا ہے ، جو سوچھ بھارت مشن۰ء۲؍اور سیٹیز مشن۰ء۲کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے ۔
اس منصوبے میں۱۱لاکھ میٹرک ٹن لیگیسی ویسٹ کی بائیو مائننگ اور بائیو ری میڈیشن شامل ہے جس کیلئے مارچ۲۰۲۸تک مکمل ہونے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ۴۵۹ٹی پی ڈی میٹریل ریکوری فسیلٹی‘۳۰۰ٹی پی ڈی ریفیوئل ڈرائیوڈ فیول اور۳۰۰ٹی پی ڈی کمپریسڈ بایو گیس پلانٹس کی تعمیر۔۱۲۵ٹی پی ڈی ویسٹ پروسیسنگ پلانٹ کی تعمیر۱۰۵فیصد تک مکمل ہو چکی ہے ۔
حکومت نے تسلیم کیا کہ نیشنل گرین ٹریبونل اور جموں و کشمیر پالیوشن کنٹرول کمیٹی نے اچھن سائٹ پر غیر سائنسی ڈمپنگ کو سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سری نگر میونسپل کاپوریشن پر۶۲ء۷۲کروڑ روپے کا ماحولیاتی جرمانہ عائد کیا ہے ۔
یہ جرمانہ میونسپل ویسٹ مینجمنٹ رولز۲۰۱۶کی خلاف ورزیوں پر عائد کیا گیا۔
حکومت نے بتایا کہ۲۰۱۷سے۲۰۲۵تک ایس ایم سی میں تعینات افسروں کی فہرست جے کے پی سی سی کو فراہم کی گئی ہے اور ان کے خلاف ماحولیات (تحفظ) ایکٹ اور واٹر ایکٹ۱۹۷۴کے تحت شکایات دائر کی گئی ہیں۔
یہ شکایات فی الحال محکمہ ماحولیات و جنگلات کے کمشنر سیکرٹری کے سامنے زیرِ سماعت ہیں۔
سری نگر میونسپل کارپوریشن نے کہا ہے کہ ادارہ ۱۰۰فیصد سائنسی ویسٹ مینجمنٹ کا ہدف حاصل کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔
منصوبے کا مقصد اچھن پر کچرے کے انبار کم کرکے سائٹ کو مکمل طور پر سائنسی نظام میں تبدیل کرنا اور ۲۰۲۷تک اوپن ڈمپنگ کا خاتمہ ہے ۔یو این آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










