سرینگر/۲۸؍ اکتوبر
جموں کشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران کتوں کے کاٹنے کے دو لاکھ سے زیادہ واقعات درج کیے گئے ہیں۔
حکومتِ جموں و کشمیر نے منگل کے روز اسمبلی کو بتایا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے آوارہ کتوں کی نس بندی اور ٹیکہ کاری کی ایک جامع مہم شروع کی گئی ہے۔
نیشنل کانفرنس (این سی) کے رکنِ اسمبلی مبارک گل کے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ سال۲۰۲۲ سے اب تک جموں و کشمیر میں کتوں کے کاٹنے کے۲لاکھ۱۲ہزار۹۶۸معاملات درج کیے گئے ہیں۔
جموں ڈویڑن سے۹۸ہزار۴۷۰ جبکہ کشمیر ڈویڑن سے ایک لاکھ۱۴ہزار۴۹۸ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کے وزیر بھی ہیں، نے اسمبلی میں اپنے تحریری جواب میں یہ اعداد و شمار پیش کیے۔
حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جموں ضلع نے اس عرصے کے دوران سب سے زیادہ۵۴ہزار۸۸۹ واقعات درج کیے، اس کے بعد سرینگر شہر۳۶ہزار۴۰۶ واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں۲۶ہزار۴۵۳؍ اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں ۱۸ہزار۵۶۳ واقعات رپورٹ ہوئے۔ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں سب سے کم ایک ہزار۳۵۷واقعات درج کیے گئے۔
حکومت نے کہا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی اور ٹیکہ کاری کے لیے ایک جامع مہم شروع کی گئی ہے۔
جون ۲۰۲۳ سے ستمبر ۲۰۲۵ تک ۴۸ہزار۹۹۸ آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) نے سب سے زیادہ۲۷ہزار۲۳۷ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کی، جبکہ جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) ۱۳ہزار۷۳۰نے کتوں پر یہ عمل انجام دیا۔
جموں خطے کے دیگر اضلاع کی میونسپل کمیٹیوں نے۷ہزار۸۷۰ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سری نگر میں اس وقت دو اینیمل برتھ کنٹرول (اے بی سی) مراکز کام کر رہے ہیں جبکہ تیسرا قائم کیا جا رہا ہے۔ کشمیر ڈویڑن کے باقی نو اضلاع میں اس نوعیت کے مراکز کے قیام کے لیے اراضی کی نشاندہی ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ عمل میں لائی جا رہی ہے۔
پہلے مرحلے میں بارہمولہ، کولگام اور سمبل میں تین مراکز کے لیے زمین یا عمارت کی نشاندہی کر لی گئی ہے، حکومت نے بتایا۔
یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ستمبر۲۰۲۵ میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر ریاستوں اور مقامی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ عوامی تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ’آوارہ کتوں کی افزائش روکنے، ویکسینیشن اور محفوظ شیلٹر فراہم کرنے‘ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوام پر حملوں کے بڑھتے واقعات ’انتظامی ناکامی‘ کو ظاہر کرتے ہیں اور ہر ریاست کو اپنے انیمل برتھ کنٹرول رولز ۲۰۲۳ کے تحت جامع عمل درآمد رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔
(ندائے مشرق خبر)










