اگریونین ٹیریٹری کے نظامِ حکومت میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تو ہر ریاست یونین ٹیریٹری بننے کی خواہش کرتی:عمر
سرینگر۲۷؍ اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس ملنے کی ان کی امیدیں اب دھندلانے لگی ہیں کیونکہ یہ معاملہ غیر معمولی حد تک طول پکڑ چکا ہے۔
پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ریاستی حیثیت بحال نہ ہوئی تو ان کا اگلا قدم کیا ہوگا تو انہوں نے کہا’’پہلے اس مرحلے تک پہنچنے دیجئے، پھر بات کریں گے‘‘۔ تاہم، انہوں نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر مقررہ مدت میں ریاستی درجہ بحال نہ ہوا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا’’میں نے ابتدا سے ہی امید رکھی تھی، مگر یہ امید اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ جتنا زیادہ یہ معاملہ کھنچتا جائے گا، اتنی ہی امید کم ہوتی جائے گی۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ امید باقی ہے۔ اگر اسی امید کے دائرے میں یہ کام ہو جائے تو بہتر ہوگا۔لیکن ابھی ہی سال ایک ہوا ہے ،ابھی بھی پر امیدی ہے ۔اسی پُر امیدی کے دوران اگر ہوجائے تو اچھا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر یونین ٹیریٹری کے نظامِ حکومت میں کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تو ہر ریاست یونین ٹیریٹری بننے کی خواہش کرتی۔ ’’اگر یو ٹی میں حکمرانی آسان ہوتی تو کیا میں پاگل ہوں جو ریاستی درجہ مانگوں؟ اگر ایسا ہوتا تو سب ریاستیں یو ٹی بننا چاہتیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے وضاحت کی کہ کئی محکمے ایسے ہیں جن کی ذمہ داری ان پر ہے لیکن ان کے افسران ان کی پسند کے نہیں۔ ’’کئی ادارے جو منتخب حکومت کے ماتحت ہونے چاہئیں، وہ آج بھی ہمارے کنٹرول میں نہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ اسمبلی میں ریاستی حیثیت کا معاملہ زیر بحث آئے تاکہ عوام کو یہ علم ہو سکے کہ بی جے پی کے ۲۸؍ارکان اسمبلی اس معاملے پر کہاں کھڑے ہیں۔ ’’ہم بات کرنا چاہتے تھے، مگر اسپیکر نے اس پر پابندی لگا دی۔ ایک رکن نے ریاستی درجہ کی بحالی پر قرارداد لانے کی کوشش کی تھی، مگر اسپیکر ایوان کے محافظ ہیں‘‘۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا’’میں جانتا ہوں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اگر ریاستی درجہ کی بحالی پر قرارداد آتی ہے تو ہمیں معلوم ہے ہم کس طرح ووٹ دیں گے۔ مگر بی جے پی کے ۲۸؍ ارکان کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی درجہ کی بحالی کے وعدے پر ووٹ مانگے تھے، مگر مرکز نے وہ وعدہ پورا نہیں کیا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یونین ٹیریٹری حکومت کے بزنس رولز اب بھی مرکز کی منظوری کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہمارے افسران کی دو تین میٹنگز مرکز کے ساتھ ہو چکی ہیں۔ مرکز نے کچھ سوالات اٹھائے، لیکن ہم نے وضاحت دی کہ جو بزنس رولز ہم نے بھیجے ہیں وہ مکمل طور پر جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کے مطابق ہیں‘‘۔
عوامی سلامتی قانون (پی ایس اے) کے تحت عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے معراج ملک پر کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا’’یہ فیصلہ غیر منصفانہ ہے۔ میں آج بھی کہتا ہوں کہ جو کچھ معراج ملک نے کیا وہ پی ایس اے کے قابل نہیں تھا۔ جب ایک مرکزی وزیر پوری مسلم برادری کو غدار کہہ کر بچ نکلتا ہے تو معراج ملک نے ایسا کیا کیا‘‘؟
عمر عبداللہ نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ اسپیکر نے عدالتوں میں زیر سماعت معاملات پر اسمبلی میں بحث کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ’’اگر ہر زیرِ سماعت معاملے پر بحث نہیں ہو سکتی تو پھر لوگ ہر مسئلے کو عدالت میں لے جائیں گے تاکہ اسمبلی میں بات ہی نہ ہو سکے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے بی جے پی ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلط فہمی میں ہیں کہ ان کی حکومت جموں کے سیلاب زدہ علاقوں کو مذہبی بنیاد پر نظر انداز کر رہی ہے۔ ان کاکہنا تھا’’بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ ہم ان کی طرح حکومت کرتے ہیں۔ وہ مرکزی حکومت میں ۱۵ فیصد آبادی کو باہر رکھ چکے ہیں۔ بی جے پی کے پاس آج لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں ایک بھی مسلم رکن نہیں۔ مرکز میں ایک بھی مسلمان وزیر نہیں‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نقصانات کا تخمینہ لگا کر امدادی پیکیج مانگا جائے گا، نہ کہ علاقے یا مذہب کی بنیاد پر۔’’ہم نقصان کے حساب سے پیکیج مانگیں گے، اور جیسے ہی فنڈز ملیں گے، ان کا منصفانہ تقسیم کیا جائے گا‘‘۔
بڈگام کے ضمنی انتخاب کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ وہاں پارٹی کی اندرونی سیاست نے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ’’کوئی بھی ضمنی انتخاب حکومت کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔ بڈگام میں ووٹوں کی تقسیم اور اندرونی سیاست نے اس چیلنج کو بڑھا دیا ہے، مگر مجھے امید ہے کہ لوگ درست فیصلہ کریں گے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے نام لیے بغیر پارٹی کے ناراض رکنِ پارلیمان آغا روح اللہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا’’اگر بڈگام کم ترقی یافتہ ہے تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جنہوں نے سالہا سال اس علاقے کی نمائندگی کی۔ مگر اگر وہ نہ کر سکے تو ہم کریں گے‘‘۔
اننت ناگ راجوری کے رکن پارلیمان میاں الطاف احمد کی جانب سے حکومت پر تنقید کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا’’میں میاں صاحب کا بہت احترام کرتا ہوں۔ وہ پارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔ میں نے ان کا بیان پڑھنے کے بعد ان سے فون پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے طور پر مجھے بولنے سے پہلے سوچنا چاہئے۔ میرے والد بھی یہی کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے میرے والد اور میاں صاحب میں کوئی فرق نہیں۔ میں انہیں بزرگ رہنما کے طور پر دیکھتا ہوں، ان کی نصیحت کا احترام کرتا ہوں‘‘۔
آغا روح اللہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا’’میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ آپ کس کا موازنہ کس سے کر رہے ہیں؟ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔(ندائے مشرق خبر)‘‘










