سرینگر/۲۷؍اکتوبر
بھارت کو ہمیشہ ’جنگ جیسے حالات‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ مئی میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ فوجی جھڑپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سرحدوں پر کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کو یہ بات کہی۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اگرچہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو ’مضبوط جواب‘ دیا، لیکن یہ واقعہ ایک کیس اسٹڈی کے طور پر کام کرے تاکہ قومی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ۷ سے۱۰ مئی کے دوران ہونے والے آپریشن میں مقامی طور پر تیار کردہ فوجی ساز و سامان کے مؤثر استعمال نے بھارت کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ساکھ کو مضبوط کیا۔
سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور نے ایک ایسے مرحلے تک پہنچا دیا تھا جہاں ’’جنگ ہمارے دروازے پر دستک دے رہی تھی‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا’’اگرچہ ہم نے مضبوط عزم کے ساتھ مضبوط جواب دیا اور ہماری افواج ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں، لیکن ہمیں مسلسل خود احتسابی کرنی چاہیے‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’آپریشن سندور ایک ایسی کیس اسٹڈی ہونا چاہیے جس سے ہم سبق حاصل کریں اور اپنا آئندہ لائحہ عمل طے کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ ہماری سرحدوں پر کسی بھی وقت، کہیں بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا’’ہمیں جنگ جیسے حالات کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے، اور ہماری تیاری ہماری اپنی بنیادوں پر مبنی ہونی چاہیے‘‘۔
سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورت حال میں ہر شعبے کا گہرا تجزیہ ضروری ہے، اور چیلنجوں سے نمٹنے کا واحد راستہ’مقامی کاری‘ ہے۔
وزیر دفاع نے کہا’’قائم شدہ عالمی نظام کمزور ہو رہا ہے، اور کئی خطوں میں تنازعات کے علاقے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے بھارت کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور حکمت عملی کو ازسرِنو متعین کرے‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ دنیا نے آپریشن سندور کے دوران آکاش میزائل سسٹم، برہموس، آکاش تیر ایئر ڈیفنس کنٹرول سسٹم اور دیگر مقامی ساز و سامان و پلیٹ فارمز کی طاقت دیکھی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اس آپریشن کی کامیابی کا سہرا بہادر مسلح افواج کے ساتھ ساتھ اْن ’صنعتی مجاہدین‘ کے سر بھی جاتا ہے جنہوں نے جدت، ڈیزائن اور تیاری کے محاذ پر کام کیا۔
سنگھ نے کہا کہ بھارتی صنعت کو فوج، بحریہ اور فضائیہ کے ساتھ دفاع کے سب سے اہم ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
سنگھ نے کہا کہ حکومت دفاعی پیداوار کو بڑھانے اور گھریلو نظام کو مضبوط بنانے کیلئے مساوی مواقع فراہم کر رہی ہے، اور صنعت کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا’’ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دفاعی ساز و سامان صرف ملک میں اسمبل نہ ہو بلکہ یہاں حقیقی مینوفیکچرنگ بیس قائم ہو جو ‘میڈ ان انڈیا، میڈ فار دی ورلڈ’ کے جذبے کی عکاسی کرے‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’متعدد اقدامات، جیسے کوانٹم مشن، اٹل انوویشن مشن، اور نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن، اختراع اور تحقیق و ترقی کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ ہماری صنعت کو وہ کامیابیاں حاصل کرنی ہوں گی جو اب تک ملک میں ممکن نہیں ہو سکیں‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا کہ۲۰۱۴ سے پہلے بھارت اپنی سلامتی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر منحصر تھا، لیکن آج ملک اپنی سرزمین پر دفاعی ساز و سامان تیار کر رہا ہے۔
سنگھ نے بتایا’’ہمارا دفاعی پیداوار جو۲۰۱۴ میں صرف تقریباً۴۶ہزار کروڑ روپے تھی، اب بڑھ کر ریکارڈ۵۱ء۱ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جس میں سے ۳۳ہزار کروڑ روپے نجی شعبے کا حصہ ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے مزید کہا’’ہماری دفاعی برآمدات جو دس سال پہلے ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھیں، اب بڑھ کر تقریباً ۲۴ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مارچ۲۰۱۶ تک دفاعی برآمدات۳۰ہزار کروڑ روپے تک پہنچ جائیں گی‘‘۔
مقامی کاری کو مزید بڑھانے کے لیے سنگھ نے صنعت سے اپیل کی کہ وہ صرف مکمل پلیٹ فارمز ہی نہیں بلکہ ذیلی نظاموں اور اجزاء کی مقامی تیاری پر توجہ دے کر سپلائی چین پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بیرونِ ملک سے بڑے ساز و سامان کی خریداری سے ملک کے وسائل پر دیکھ بھال اور عمر بھر کے اخراجات کے لحاظ سے بوجھ بڑھتا ہے۔
سنگھ نے کہا’’چونکہ ہر پلیٹ فارم میں متعدد اجزاء اور پرزے شامل ہوتے ہیں، اس لیے ان ذیلی نظاموں کی مقامی تیاری سے ہمارے مقامی مواد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ‘ہماری مٹی، ہماری ڈھال’ ہماری پہلی ترجیح بنے‘‘۔
آخر میں وزیر دفاع نے کہا’’ہمارا مقصد صرف بھارت میں اسمبلنگ نہیں بلکہ ملک کے اندر ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ کا قیام ہونا چاہیے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کی منتقلی مؤثر ہو اور وہ ہماری مقامی صنعتوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے۔
(ویب ڈیسک)‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










