سرینگر/۲۷؍اکتوبر
جموں کشمیر اسمبلی میں پیر کے روز اُس وقت تنازعہ پیدا ہوا جب پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے حکومت کی جانب سے ریزرویشن پالیسی میں اصلاحات نہ کرنے پر بحث کے لیے التواء کی تحریک پیش کی، تاہم اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اس تحریک کو مسترد کر دیا۔
سوالات کے وقفے کے اختتام پر سجاد لون نے ایوان میں کہا کہ انہوں نے ریزرویشن کے مسئلے پر بحث کے لیے التواء کی تحریک جمع کی تھی، کیونکہ حکومت اس حساس معاملے کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے ۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا’’یہ ایک پوسٹ ڈیٹڈ چیک ہے جو تباہی کی ضمانت دے رہا ہے ‘‘۔
اس پر اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے واضح کیا کہ یہ معاملہ ایوان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا کیونکہ یہ نہ تو حالیہ نوعیت کا ہے اور نہ ہی قواعد کے مطابق۔ انہوں نے کہا ’’ایوان کے ضابطۂ کار کے مطابق، التواء کی تحریک صرف اُن معاملات پر پیش کی جا سکتی ہے جو حالیہ نوعیت کے ہوں۔ یہ مسئلہ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی اچانک پیش آیا ہے ‘‘۔
اسپیکر نے مزید بتایا کہ حکومت نے ریزرویشن پالیسی پر نظرثانی کے لیے پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس موضوع پر ایوان میں ماضی میں بحث بھی ہو چکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے ، اس لیے اس پر مزید بات چیت ممکن نہیں۔
سجاد لون کی تحریک مسترد ہونے پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں ناراضگی کا اظہار کیا اور حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوامی مسائل پر بحث سے گریزاں ہے ۔ تاہم اسپیکر نے اپنی رولنگ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ایوان کو قانون اور ضابطے کے مطابق چلایا جائے گا، اور کسی بھی زیرِ سماعت معاملے پر بات چیت آئینی اصولوں کے خلاف ہے ۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ریزرویشن پالیسی حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کی سیاست کا ایک انتہائی حساس موضوع بن چکی ہے ، جس پر مختلف جماعتوں کے درمیان اختلافات گہرے ہو گئے ہیں۔یو این آئی










