سرینگر/۲۵؍ اکتوبر
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنما اور زیرِ حراست ایم ایل اے ڈوڈہ، معراج ملک نے نیشنل کانفرنس (این سی) پر ’’سیاسی منافقت‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں پارٹی کے رویے اور بیانات نے اس کی اصلیت آشکار کر دی ہے۔
ایک بیان میں ملک نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے جیل سے نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ ڈالا، مگر اب انہی کے بعض لیڈران اْن کے فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ڈوڈہ کے ممبر اسمبلی نے کہا’’میں نے جیل سے این سی کے حق میں ووٹ ڈالا، حالانکہ انہوں نے نہ کبھی رابطہ کیا اور نہ ہی میری حمایت حاصل کرنے کی کوئی کوشش کی۔اس کے باوجود آج انہی کے کچھ رہنما مجھ پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں …یہ بدترین درجے کی بے شرمی ہے‘‘۔
ملک نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس راجیہ سبھا کی اس نشست کو جیتنے کے معاملے میں کبھی سنجیدہ نہیں تھی۔
ان کاکہنا تھا’’انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، نہ ہی کسی اتفاقِ رائے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود، میں نے جموں و کشمیر کے وسیع تر مفاد میں سوچ کر انہیں ووٹ دیا کہ شاید میرا ووٹ فرق ڈال سکے۔ مگر افسوس، اب معلوم ہوا کہ ان میں سے کچھ پہلے ہی سمجھوتہ کر چکے تھے اور بی جے پی کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے‘‘۔
ملک نے این سی پر دوغلے پن اور بی جے پی سے خفیہ تعلقات کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے کچھ رہنما بظاہر بی جے پی کے خلاف بولتے ہیں، مگر درپردہ ان کے ساتھ ہیں۔
ڈوڈہ کے محبوس ایم ایل اے نے کہا’’جو خود کو بی جے پی مخالف ظاہر کرتے ہیں، وہی دراصل ست شرما جیسے لیڈروں کے ساتھ دوستی نبھا رہے ہیں۔ ان کے حالیہ اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی اصل وفاداریاں کہاں ہیں‘‘۔
ملک نے مزید کہا کہ ناگرہ سے مسلم امیدوار کھڑا کرنے کا نیشنل کانفرنس کا فیصلہ بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ان کاکہنا تھا’’نگروٹہ سے مسلم امیدوار اتارنا بی جے پی کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نیشنل کانفرنس کی سیاسی وفاداریاں کہاں جھکی ہوئی ہیں۔ (ویب ڈیسک)‘‘










