ہوشیارپور، 24 اکتوبر (یو این آئی) پنجاب کے ہوشیارپور کے گڑھ شنکر میں ایک میڈیکل اسٹور پر حال ہی میں ہوئی فائرنگ کے معاملے میں مطلوب دو افراد کو جمعہ کی صبح پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
گڑھ شنکر کے پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ دلجیت سنگھ نے بتایا کہ جوابی کارروائی میں ایک ملزم کے پیر میں گولی لگ گئی، جبکہ ایک پولیس افسر بال بال بچ گیا کیونکہ گولی اس کے بلٹ پروف جیکٹ پر لگی۔ انہوں نے بتایا کہ صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے تھانہ انچارج انسپکٹر گگن دیپ سنگھ کی قیادت میں پولیس کی ایک ٹیم باراپور روڈ پر کنیل کے قریب موجود تھی۔ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ایک سابقہ معاملے میں مطلوب دو مشتبہ افراد موٹر سائیکل پر علاقے میں گھوم رہے ہیں اور کسی مجرمانہ واردات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ُُپولیس نے کہا، ”باراپور گاؤں کے قریب ایک ناکے پر جب انہیں رکنے کا اشارہ کیا گیا تو بدمعاشوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے خود دفاع میں جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔”
ملزمان کی شناخت ہریانہ تھانہ علاقے کے گاؤں بسی واجد کے رہنے والے کرن جگپال عرف کنو اور گڑھشنکر تھانہ علاقے کے گاؤں ابراہیم پور کے سمرن پریت سنگھ عرف سمو کے طور پر ہوئی ہے ۔
کرنول حادثہ۔پٹرول کے اخراج سے حادثہ پیش آیا۔پولیس کا دعوی
حیدرآباد 24اکتوبر(یواین آئی)آندھرا پردیش کے کرنول کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کویا پروین، جنہوں نے حادثہ کی جگہ کا معائنہ کیا، نے بتایا کہ حادثہ کے وقت بس چلا رہا ڈرائیور موقع سے فوراً فرار ہوگیا، جبکہ دوسرا، اسٹینڈ بائی ڈرائیور، پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ جانچ کر رہے ہیں کہ آیا بس تیز رفتاری سے چلائی جا رہی تھی اور کیا ٹکر لاپرواہ ڈرائیونگ کے باعث ہوئی، بس ڈرائیور یا موٹرسائیکل سوار میں سے کسی ایک کی جانب سے ۔
ڈی آئی جی نے ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بس کے نیچے پھنسے موٹرسائیکل کے رگڑ سے چنگاریاں نکلیں، جن سے موٹرسائیکل کا بہتا ہوا پٹرول آگ پکڑ گیا اور بعد میں بس کے ڈیزل ٹینک میں دھماکہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ بس کا لوہے کا فریم بھی جزوی طور پر پگھل گیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بس کی باڈی غیر معیاری اور آتش گیر مواد سے تیارکی گیء تھی، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔










