سرینگر/۲۳؍اکتوبر
جموں کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز قانون ساز اسمبلی اجلاس کے پہلے دن سابق وزراء اور ارکان اسمبلی کو تعزیتی قرارداد کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر انہوں نے اسپیکر اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ تعزیتی حوالہ جات میں سلطان پنڈت پوری کے نام کے حذف کیے جانے پر وضاحت طلب کریں اور ساتھ ہی تجویز دی کہ ایوان میں تعزیتی کارروائی کو پارلیمنٹ کے طریقۂ کار کے مطابق مختصر اور مؤثر بنایا جائے۔
عمر عبداللہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج جن رہنماؤں کو ہم یاد کر رہے ہیں، انہوں نے اپنی زندگی میں بہتری کے لیے کام کیا۔ ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں … چاہے وہ دانستہ ہوں یا غیر دانستہ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے اسپیکر کو مشورہ دیا کہ آئندہ ایوان میں تعزیتی کارروائی کو پارلیمنٹ کے طرز پر انجام دیا جائے، جہاں سابق ارکان کو مختصر انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، بجائے طویل تقاریر کے۔ انہوں نے کہا، ’ہم سب سیاست دان ہیں، اور سیاست میں تقاریر کبھی مختصر نہیں ہوتیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اسپیکر صاحب پارلیمنٹ کی طرح ایک رسمی طریقہ اپنائیں تاکہ وقت کا بھی درست استعمال ہو۔‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ آج ہم جن شخصیات کو یاد کر رہے ہیں، کل ہمیں بھی اسی طرح یاد کیا جائے گا۔ اس لیے یہ لمحہ ہمارے لیے سبق آموز ہونا چاہیے کہ ہم ان سے کچھ سیکھیں اور عوام کی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر تمام سابق اراکین اور وزراء کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام رہنما یا تو عوام کے ووٹوں سے ایوان میں پہنچے یا کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کے ذریعے عوامی خدمت انجام دیتے رہے۔
عمرعبداللہ نے سابق جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایک سیاسی کارکن اور سابق ایم ایل اے رہے بلکہ مختلف ریاستوں میں خدمات انجام دینے کے بعد گورنر کی حیثیت سے بھی اہم کردار ادا کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’ہماری ان سے کئی امور پر رائے مختلف ہو سکتی ہے، مگر ستیہ پال ملک نے اپنے وقت کے مطابق فیصلے لیے، جنہیں ہمیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘
وزیر اعلیٰ نے سابق رہنما جی ایم شاہین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک ’دلیر اور ثابت قدم‘ سیاسی رہنما قرار دیا۔ عمر عبداللہ نے کہا، ’جی ایم شاہین پر ایک بڑا حملہ ہوا تھا، مگر وہ اس کے بعد بھی ہمیشہ عوامی خدمت کے لیے سرگرم رہے، اور یہی ان کی بہادری کی پہچان ہے۔‘
اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف کے اراکین نے بھی ایوان میں پیش کی گئی تعزیتی قراردادوں کی حمایت کی اور مرحوم رہنماؤں کی سیاسی و سماجی خدمات کو سراہا۔
ادھر اسمبلی اجلاس کے پیش نظر ایوان کے گرد و نواح میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا، جبکہ داخلی راستوں پر چیکنگ کے سخت انتظامات دیکھنے کو ملے۔ اسمبلی احاطے میں داخل ہونے والے تمام افراد کی شناختی تصدیق کی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
(یو این آئی)










