سرینگر/۲۲؍اکتوبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جمعرات سے شروع ہو رہا ہے ، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اجلاس خاصا ہنگامہ خیز ثابت ہوگا، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو انتخابی وعدوں، طرزِ حکمرانی، ریاستی درجہ اور ریزرویشن پالیسی جیسے معاملات پر گھیرنے کی تیاری میں ہیں۔
بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نیشنل کانفرنس (این سی) کی قیادت والی حکومت سے انتخابی وعدوں کی خلاف ورزی پر جواب طلب کرے گی۔
اپوزیشن جماعت کے لیڈر نے کہا’’حکومت نے انتخابات کے دوران جو وعدے عوام سے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ۔ چاہے وہ ہر گھر کو ۲۰۰یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ ہو،۱۲؍ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کا اعلان ہو یا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا دعویٰ سب کھوکھلے ثابت ہوئے ‘‘۔
بی جے پی لیڈر کے مطابق بی جے پی حکومت سے نوجوانوں کے روزگار سے متعلق وعدوں پر وضاحت طلب کرے گی۔ ان کے بقول’’انتخابات میں کہا گیا تھا کہ ایک لاکھ نوجوانوں کو ملازمت دی جائے گی، لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ ہم پوچھیں گے کہ نوجوانوں کے لیے آخر کیا اقدامات کیے گئے ؟‘‘
دوسری جانب، وادی کی علاقائی جماعتیں جیسے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، پیپلز کانفرنس (پی سی) اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن میں اصلاحات، اور دیگر عوامی مسائل کو لے کر ایوان میں احتجاج کا منصوبہ رکھتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اسمبلی سیکریٹریٹ نے پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون کی جانب سے ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق پیش کی گئی قرارداد کو یہ کہہ کر نامنظور کر دیا ہے کہ یہ معاملہ فی الحال عدالت کے زیرِ غور ہے ۔
اسی اجلاس میں حکومت تین اہم بل پیش کرنے جا رہی ہے جنہیں کابینہ سے منظوری مل چکی ہے ۔ ان میں جموں و کشمیر پنچایتی راج ایکٹ ۱۹۸۹؍اور گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ ۲۰۱۷میں ترمیمات شامل ہیں، جبکہ جموں و کشمیر شاپس اینڈ بزنس اسٹیبلشمنٹ بل۲۰۲۵کو بھی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق، اس اجلاس کے لیے اب تک۴۵۰سوالات‘۱۳نجی اراکین کے بل اور ۵۵نجی اراکین کی قراردادیں موصول ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، گزشتہ اجلاس میں پیش کیے گئے ۳۳بلز بھی زیرِ التواء ہیں جنہیں۲۸؍اکتوبر کو طے شدہ’پرائیویٹ ممبرز ڈے‘کے موقع پر ترجیحی بنیاد پر زیرِ بحث لایا جائے گا۔ایجنسیز










