سرینگر/۱۸؍اکتوبر
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے ہفتے کے روز وعدہ کیا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ’مناسب وقت ‘پر بحال کی جائے گی اور لداخ کے عوام کی جانب سے اٹھائے گئے مطالبات کا ایک ’اچھا حل‘ نکالا جائے گا۔
ہفتہ کوپٹنہ میں ایک میڈیا کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد دہشت گردی سے متاثر جموں و کشمیر نے ’یو ٹرن لیا ہے‘ اور ’گزشتہ نو ماہ میں کوئی مقامی دہشت گرد بھرتی نہیں ہوا‘۔
امت شاہ نے کہا’’یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو جموں و کشمیر نے دیکھی، جہاں ۱۹۹۰ کی دہائی سے علیحدگی پسندی پنپ رہی تھی۔ پہلے پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گرد بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دیتا تھا۔ اب صورتحال بدل گئی ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ پورے ملک کے ہیں اور پورا ملک اْن کا ہے‘‘۔
یہ کانکلیو اے بی پی نیوز اور ہندستان اخبار کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
وزیرِ داخلہ نے کہا’’آج جموں کشمیر میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے۔ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں، اور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات بھی منعقد ہو چکے ہیں۔ راجیہ سبھا کے انتخابات بھی مناسب وقت پر ہوں گے۔‘‘
ان سے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا جو وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے دیا تھا ’ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر کی وجہ سے جموں و کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان ایک خلیج باقی ہے‘۔اس پر شاہ نے جواب دیا’’وہ (عبداللہ) یہ بات سیاسی مجبوریوں کے تحت کہہ رہے ہوں گے۔ لیکن ریاستی حیثیت مناسب وقت پر بحال کی جائے گی، اور یہ عمل اْن سے بات چیت کے بعد ہی ہوگا‘‘۔
لداخ میں حالیہ احتجاج کے بارے میں شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت ’لہہ اور کرگل کی کمیٹیوں سے بات چیت میں مصروف ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا’’ہم عوام سے صبر کی اپیل کرتے ہیں۔ اْن کے تمام جائز مطالبات کا ایک اچھا حل نکالا جائے گا‘‘۔
یہ اشارہ بظاہر لہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی مشترکہ قیادت کی طرف تھا، جو لداخ کی سیاسی اور سماجی تنظیموں کی نمائندگی کرتی ہیں۔
وزیرِ داخلہ سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا تعلیم دان سے سرگرم کارکن بننے والے سونم وانگچک کی رہائی ممکن ہے؟ وانگچک کو اْس وقت گرفتار کیا گیا جب اْن پر بی جے پی کے دفتر کو نذرِ آتش کرنے اور دیگر عوامی عمارتوں کی توڑ پھوڑ پر اکسانے کا الزام لگا۔
شاہ نے جواب دیا’میں عوام کے مطالبات کے بارے میں بات کر سکتا ہوں، کسی فرد کے بارے میں نہیں۔ جہاں تک اْن (وانگچک) کے معاملے کا تعلق ہے، یہ عدالت میں زیرِ غور ہے اور عدالت ہی ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی‘۔
وزیرِ داخلہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت ماؤ نواز بغاوت کے خلاف ’ایک بے رحم مہم‘ چلا رہی ہے، اور بائیں بازو کی انتہا پسند سوچ پر ‘‘قبائلی علاقوں کو پسماندہ رکھنے کے گناہ’’ کا الزام لگایا۔
وزیر داخلہ نے کہا’وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد گیارہ برسوں میں ہم نے کم از کم ۶۰۰ ماؤ نواز کیمپ تباہ کیے، اْن کے مالی ذرائع خشک کر دیے اور ہتھیاروں کی رسائی روک دی۔ میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ماو نواز تحریک ۳۱ دسمبر ۲۰۲۶ تک مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔
(ندائے مشرق ڈیسک)‘‘










