ترواننت پورم، 17 اکتوبر (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کیرالہ میں حکمراں سی پی آئی ایم کی قیادت والے بائیں بازو جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کی حکومت اور اپوزیشن کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ دونوں پارٹیاں جماعتِ اسلامی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ”ریموٹ کنٹرول” کے تحت کام کر رہی ہیں۔
بی جے پی کے ریاستی صدر راجیو چندر شیکھر نے الزام لگایا کہ ریاست میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، ”سبری مالا کی لوٹ” اور سینٹ ریٹا اسکول پر حالیہ حملہ سی پی آئی ایم اور کانگریس میں موجود شدت پسند عناصر کے بڑھتے اثر کا براہِ راست نتیجہ ہے ۔
انہوں نے دونوں جماعتوں کو ایک ہی سکے کے دو پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام میں انتہا پسندی اور مذہبی اداروں کے غلط استعمال کے خلاف ایک مضبوط عزم پایا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ صرف بی جے پی ہی وہ جماعت ہے جس میں اتنی ہمت اور صلاحیت ہے کہ وہ ریاست کی سیاسی دھاراؤں میں سرایت کر نے والی شدت پسند طاقتوں کے خلاف ہر طبقے اور ہر ملیالی کے حقوق کا دفاع کر سکے ۔
انہوں نے کہا کہ کیرالہ کو انتہا پسندی نہیں، بلکہ ترقی کی ضرورت ہے اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ریاست کے سیاسی منظرنامے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے ۔
دیو سووم بورڈ سے متعلق تنازع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پینارائی وجین کو مالابار دیو سووم بورڈ کے تحت مندر کے سونے کی مبینہ چوری اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کی سی بی آئی اور ای ڈی سے جانچ کا حکم دینا چاہیے ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ اس معاملے کو معمولی غلطی کہہ کر نظرانداز کرتے رہے ، تو بی جے پی ”سبری مالا سونا گھوٹالہ” کے مکمل انکشاف کے لیے اپنی مہم تیز کرے گی۔
انہوں نے دیو سووم وزیر وی۔ این۔ وساوَن کے استعفے اور دیو سووم بورڈ کی تحلیل کا بھی مطالبہ کیا۔
راجیو چندر شیکھر نے وزیر وساوَن پر ”کیرالہ کے مندروں کی منظم لوٹ” کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ سبری مالا کا معاملہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں بلکہ بدعنوانی کے ایک بڑے پیٹرن کا حصہ ہے ، جہاں مقدس مندروں کی دولت کو ذاتی فائدے کے موقع کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا، ”عقیدت مندوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے دیو سووم بورڈ بدعنوان دلالوں کا گڑھ بن گیا ہے ۔”
انہوں نے 2016 میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پینارائی وجین کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت میں جوابدہی اور عزم ضروری ہے اور جو کوئی ان اصولوں کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو جائے اور جس میں تھوڑی سی بھی شرم باقی ہو، اسے استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔
انہوں نے بدعنوانی کو بے نقاب کرنے ، مندر انتظامیہ میں شفافیت بحال کرنے اور عقیدت مندوں کے ایمان کی حفاظت کے عزم کو دہرایا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ کیرالہ کے لوگ ایسی حکومت کے مستحق ہیں جو ترقی اور روایت دونوں کا تحفظ کرے ، نہ کہ ایسی حکومت جو مذہبی اداروں کو سیاسی سرپرستی میں لوٹنے دے ۔










