جمعرات, ستمبر 10, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home تازہ تریں

’ ریاستی حیثیت کی بحالی مسائل کا حل ہے‘

میں اب بھی امید رکھتا ہوں کہ بغیر دھمکی، بغیر صورتحال خراب لوگوں سے کئے وعدے پورے ہوں گے: وزیر اعلیٰ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-17
in تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’ ریاستی حیثیت کی بحالی مسائل کا حل ہے‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

’ریزرویشن پر کابینہ کی سب کمیٹی کی رپورٹ کو کابینہ نے منظور کیا ‘ہم پانچ سال مکمل ہونے پر حساب دیں گے‘

جموں/۱۶؍اکتوبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی سے ریاستی حیثیت کی بحالی کا پرجوش مطالبہ دہرایا اور اسے مرکز کے تمام مسائل کا سب سے اہم حل قرار دیا۔
جموں میں نیشنل کانفرنس کے صدر دفترمیں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ مرکزی حکومت نے ان کی حکومت کے پہلے سال میں ریاستی حیثیت کی یقین دہانی پوری نہیں کی۔
وزیر اعلی نے کہا’’ہمیں امید تھی کہ حکومت کے پہلے سال میں ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ پورا ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے تمام مسائل کا حل ریاستی حیثیت کی بحالی میں مضمر ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے وزیراعظم اور مرکزی حکومت سے براہ راست کہا کہ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے فلور سے عوام سے کیے گئے وعدے کو پورا کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے بی جے پی پر بھی تنقید کی کہ وہ انتخابات کے اہم وعدے پر عمل نہیں کر سکی، خصوصاً جموں میں جہاں پارٹی نے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے کہا’’بی جے پی نے عوام سے ریاستی حیثیت کا وعدہ کیا تھا، یہ وعدہ ابھی تک کیوں پورا نہیں ہوا؟‘‘ انہوں نے یاد دلایا کہ بی جے پی رہنماؤں نے پہلے این سی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حیثیت ’دہلی سے آئے گی، نہ کہ جموں یا سرینگر سے‘۔
عمرعبداللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر ان کی حکومت کو بیک ڈور اتحاد کے لیے مجبور کرنے کی سازش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’’یہ بہت افسوسناک ہوگا اگر صرف اس وجہ سے عوام سے ریاستی حیثیت چھینی جائے کہ بی جے پی حکومت تشکیل نہیں دے سکی۔ اگر لوگ بی جے پی حکومت چاہتے تھے، تو ۲۰۲۴ میں بی جے پی حکومت بناتے… ہم بیک ڈور سے بی جے پی کو آنے نہیں دیں گے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’بی جے پی نے نہ تو سپریم کورٹ میں اور نہ ہی پارلیمنٹ میں کہا کہ ریاستی حیثیت صرف اس صورت میں دی جائے گی جب وزیر اعلیٰ بی جے پی کا ہو۔ انہوں نے صرف تین مرحلوں کا ذکر کیا تھا… حد بندی، انتخابات، اور ریاستی حیثیت۔ نہ اگر، نہ مگر‘‘۔
این سی کی حکمت عملی کے حوالے سے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ریاستی حیثیت کی جلد بحالی کی امید رکھتے ہیں۔ ’’میں کسی دھمکی یا تنازعہ کے ذریعے کچھ حاصل کرنے والا نہیں ہوں۔ میں اب بھی امید رکھتا ہوں کہ بغیر دھمکی، بغیر صورتحال خراب کیے، جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے ہوں گے‘‘۔
ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر عبداللہ نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی اور این سی کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا’’یو ٹی میں حکومت چلانا مختلف تجربہ ہے۔ ہمیں امید تھی کہ مرکز ریاستی حیثیت کے وعدے کو پورا کرے گا، لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔ لیکن ہم اپنی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔
عمرعبداللہ نے اپنی حکومت کی سیاسی ایجنڈے کے لیے کیے گئے فعال اقدامات کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا’’ہم نے آغاز کیا ہے۔ چاہے وہ سیاسی وعدے ہوں…اسمبلی میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت پر قرارداد لانا، یا کابینہ میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کرانا… ہم نے دونوں اقدامات کیے ہیں‘‘۔
اپوزیشن کی طرف سے ایک سال کی رپورٹ کارڈ کی مانگ کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام نے حکومت کو پورے پانچ سال کے لیے مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا’’اگر آپ کو ہمارا جائزہ لینا ہے، تو یہ حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد کریں کیونکہ کوئی بھی حکومت چھ ماہ یا ایک سال میں تمام وعدے پورے نہیں کرتی‘‘۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پانچ سال مکمل ہونے پر جامع رپورٹ پیش کی جائے گی۔

(ندائے مشرق خبر)

متعلقہ

وندے ماترم پر این سی اور کانگریس آمنے سامنے

’کیا انجینئر رشید کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دی جاسکتی ہے؟‘

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

چار سال بعد جموں و کشمیر میں ’در بار موو‘ کی بحالی کا اعلان

Next Post

شاہین آفریدی نے مانگ کر بال لی اور کہا میچ بدل دوں گا: شان مسعود

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

وندے ماترم پر این سی اور کانگریس آمنے سامنے
اہم ترین

وندے ماترم پر این سی اور کانگریس آمنے سامنے

2026-09-10
انجینئر رشید کا عبوری ضمانت میںترمیم  کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع
اہم ترین

’کیا انجینئر رشید کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دی جاسکتی ہے؟‘

2026-09-10
کانگریسی ضلع صدر سمیت تین لیڈروں کو پارٹی سے نکال گیا
اہم ترین

گزشتہ ۵؍اسمبلی انتخابات میں کس جماعت کو کتنی رقم ملی

2026-09-10
آئی ایف ایف جے کے: جموں و کشمیر میں فلمی بنیادی ڈھانچے کے قیام پر زور
اہم ترین

آئی ایف ایف جے کے: جموں و کشمیر میں فلمی بنیادی ڈھانچے کے قیام پر زور

2026-09-10
نشہ مکت بھارت:سماجی انصاف کی وزارت کا۴روحانی تنظیموں کے ساتھ مفاہمت پر دستخط
اہم ترین

نشہ مکت بھارت:سماجی انصاف کی وزارت کا۴روحانی تنظیموں کے ساتھ مفاہمت پر دستخط

2026-09-10
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

حزب المجاہدین کا ہائی برڈ دہشت گرد ماڈیول بے نقاب:پولیس

2026-09-10
کپوارہ میں سرکاری ملازم منشیات فروش نکلا‘ گرفتار، براؤن شوگر بر آمد
اہم ترین

۲۰ہزار روپے رشوت طلب اور وصول کرنے پر اہلکار گرفتار

2026-09-10
جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے   جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ   کے چیف جسٹس کاحلف اٹھا لیا
اہم ترین

جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے  جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ  کے چیف جسٹس کاحلف اٹھا لیا

2026-09-10
Next Post

شاہین آفریدی نے مانگ کر بال لی اور کہا میچ بدل دوں گا: شان مسعود

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.