جموں/۱۶؍اکتوبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز ریاست کی تاریخی روایت ’در بار موو‘ کو چار سال بعد دوبارہ شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ریاستی کابینہ کی منظوری اور لیفٹیننٹ گورنر کی توثیق کے بعد عمل میں لایا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس قدیم روایت کی بحالی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا’’کابینہ نے اس فیصلے کی منظوری دی تھی اور فائل لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی تھی، جسے اب باضابطہ طور پر منظوری مل چکی ہے۔ حکومت جلد ہی ’در بار موو‘ کو دوبارہ شروع کرے گی‘‘۔
آج شام جاری ایک سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سری نگر کے دفاتر ۳۱؍ اکتوبر اوریکم نومبر ۲۰۲۵ کو بند رہیں گے اور باضابطہ طور پر۳ نومبر ۲۰۲۵ سے جموں میں دوبارہ کھلیں گے۔
ذرائع کے مطابق، کابینہ نے رواں سال ستمبر میں ہی اس صدی پرانی روایت کو بحال کرنے کی سفارش کی تھی۔
قابلِ ذکر ہے کہ ’در بار موو‘ کی روایت ۱۸۷۲ میں مہاراجہ گلاب سنگھ نے متعارف کرائی تھی، جس کے تحت جموں و کشمیر کے سرکاری دفاتر ہر سال سردیوں میں جموں اور گرمیوں میں سرینگر منتقل کیے جاتے تھے تاکہ دونوں خطوں کے عوام کو براہِ راست انتظامی سہولتیں میسر رہیں۔
یہ روایت تقریباً ڈیڑھ سو سال تک جاری رہی اور ریاستی اتحاد و انتظامی توازن کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ تاہم، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے۲۰۲۱ میں اسے روک دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس اعلان کو تاریخی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جو ایک طرف ریاستی وراثت کے احیاء کی علامت ہے تو دوسری طرف خطے کے دونوں حصوں کے درمیان سیاسی و انتظامی توازن بحال کرنے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ادھر جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر‘ سید محمد الطاف بخاری نے جمعرات کو منتخب حکومت کے ذریعہ علاقے کی قدیم روایت دربار موو دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
بخاری نے اس اقدام کو’قابلِ تعریف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاتر کو جموں اور کشمیر کے درمیان منتقل کرنے کی یہ تاریخی روایت آج بھی معاشرتی، ثقافتی اور اقتصادی لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
اپنی پارٹی کے صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ ڈومیسائل اہلیت کے لیے رہائشی مدت کی شرط ۵۰ سال مقرر کی جائے۔
بخاری نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس پر کہا’’روایتی سالانہ دو مرتبہ دربار موو کی بحالی واقعی ایک قابلِ تعریف فیصلہ ہے۔ یہ تاریخی روایت آج کے دور میں انتظامی کارکردگی کے لیے ضروری نہیں ہوسکتی، لیکن اس کی معاشرتی، ثقافتی اور اقتصادی اہمیت برقرار ہے۔ حکومت کو اس فیصلے پر مبارکباد دیتا ہوں‘‘۔
اپنی پارٹی کے صدر نے مزید کہا’’میں اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ایک اور جرأت مند اقدام کرنے کی اپیل کرتا ہوں … ڈومیسائل اہلیت کے لیے ۵۰ سالہ رہائش کی شرط مقرر کی جائے۔ چونکہ آپ کے پاس آمدنی کا محکمے کا قلمدان بھی ہے، ڈومیسائل کے قواعد میں تبدیلی مکمل طور پر آپ کے اختیار میں ہے۔ موجودہ ۱۵ سال کی شرط کو۵۰ سال تک بڑھانا حکومت کی جانب سے ایک نمایاں اقدام ہوگا۔
(ندائے مشرق خبر)‘‘










