سرینگر/۱۶؍اکتوبر
مرکزی وزیر‘ ڈاکٹر جتندر سنگھ نے آج کٹھوعہ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ۱۵۰ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ قومی مہم کے تحت اولین ’یونٹی مارچ، ایک بھارت، اکھنڈ بھارت‘پیدل یاترا کو روانہ کیا۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ کے ہمراہ بڑی تعداد میں طلباء ، این سی سی کے کیڈیٹس، عوامی نمائندے اور مقامی لوگ شریک تھے۔ یہ مارچ ڈریم لینڈ پارک سے شروع ہو کر گورنمنٹ ڈگری کالج (جی ڈی سی) کے احاطے میں اختتام پذیر ہوا۔
ڈگری کالج کٹھوعہ میں مارچ کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرنے کہا کہ اگر سردار پٹیل کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جاتا تو پاکستان کے قبضے والے جموں و کشمیر (پی او جے کے) کا مسئلہ کبھی پیدا نہ ہوتا اور جموں و کشمیر بلکہ پورے بھارت کی تاریخ مختلف ہوتی۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ اْس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اپنے وزیر داخلہ پٹیل کو جموں و کشمیر کے معاملے کو ویسے نمٹانے کی اجازت نہیں دی جیسے وہ دیگر ریاستوں کے ساتھ کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں پی او جے کے وجود میں آیا۔ انہوں نے مزید کہا ’’جب بھارتی افواج پاکستان کے قبضے سے جموں و کشمیر کا حصہ واپس لینے کے قریب تھیں، تب نہرو نے سردار پٹیل یا اپنے کابینی ساتھیوں سے مشورہ کیے بغیر ریڈیو پر یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا‘‘۔
سردار پٹیل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ انہوں نے ۵۶۰ سے زائد ریاستوں کو بھارتی یونین میں شامل کر کے تاریخ رقم کی۔ انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل کی بروقت مداخلت سے بھارتی افواج نے ۱۹۴۷ میں قبائلی حملہ آوروں کے حملے کو پسپا کیا، ورنہ سرینگر شہر بھی ان کے قبضے میں جا سکتا تھا۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ تقسیم کے بعد سردار پٹیل وزیر داخلہ تھے، اور اگر اْس وقت کے وزیر اعظم نہرو نے انہیں جموں و کشمیر کے معاملے میں ویسی ہی آزادی دی ہوتی جیسے دیگر ریاستوں میں دی، تو جموں و کشمیر اور بھارت کی تاریخ مختلف ہوتی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ جس طرح سردار پٹیل نے بکھرے ہوئے بھارت کو متحد کیا، اسی طرح’یونٹی مارچ‘ کا مقصد نوجوانوں میں ’ایک بھارت، اکھنڈ بھارت‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘کے نظریات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر کے دوران منشیات کے خاتمے، صفائی (سواچھتا) اور دیسی مصنوعات کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر بیداری پیدا کی جائے گی تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خودکفیل اور متحد بھارت کے وڑن کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ سردار پٹیل سے تحریک حاصل کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کی وراثت کو آگے بڑھانے اور نوجوانوں میں اتحاد و حب الوطنی کے جذبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مودی نے گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ’اسٹیچو آف یونٹی‘کی تعمیر کے لیے ملک بھر کے عوام سے لوہا عطیہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ یہ مجسمہ بھارت کے آہنی مرد سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراجِ عقیدت ہے، جنہوں نے تقسیم کے بعد بھارت کو متحد کیا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ سردار پٹیل کی طرح ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی بھی ایک کم سراہے جانے والے رہنما ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کو بھارت میں مکمل طور پر ضم کرنے کے لیے اپنی جان قربان کی۔ان کاکہنا تھا’’یونٹی مارچ ایک بھارت … آتم نربھر بھارت‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ مہم ۶؍ اکتوبر ۲۰۲۵ کو ڈیجیٹل طور پر شروع ہوئی ہے اور اسے دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔(ویب ڈیسک)










