جموں/۱۵؍اکتوبر
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے بدھ کے روز نگروٹہ اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب کے لیے دیویانی رانا کے نام کا اعلان ہوتے ہی پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ خوشی سے سرشار کارکنان ڈھول کی تھاپ پر جھوم اٹھے جبکہ دیویانی رانا نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گی۔
بی جے پی نے بدھ کو مختلف ریاستوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کا اعلان کیا، جس کے تحت جموں و کشمیر میں نگروٹہ سے دیویانی رانا اور بڈگام سے آغا سید محسن کو امیدوار نامزد کیا گیا۔
نگروٹہ کی نشست گزشتہ سال اکتوبر میں دیویانی کے والد اور بی جے پی کے سینئر رہنما دیویندر سنگھ رانا کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، جبکہ بڈگام کا ضمنی انتخاب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے گاندربل نشست برقرار رکھنے کے باعث ناگزیر ہوا۔
دیویانی رانا نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا، ستی شرما، ترون چوگھ اور اشوک کول کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے ناگروٹا سے انتخاب لڑنے کے قابل سمجھا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کی نامزدگی صرف ایک ٹکٹ نہیں بلکہ ’’اپنے والد کے خوابوں اور منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع‘‘ ہے۔ان کا کہنا تھا، ’’عوام کی دعاؤں سے ہم نگروٹا کو ایک ماڈل اسمبلی حلقہ بنائیں گے …رانا صاحب کے اس خواب کو پورا کریں گے کہ اسے ترقی یافتہ بھارت کی علامت بنایا جائے۔‘‘
نگروٹہ کے درجنوں بی جے پی کارکنان اور مقامی شہری اعلان کے فوراً بعد گاندھی نگر میں دیویانی کے گھر پہنچے اور جشن منایا۔
دیویانی رانا، جو خاندانی میڈیا اور موٹر کمپنی کے کاروبار کو سنبھالتی ہیں، نے کہا کہ وہ ’’ایمانداری، لگن اور نظم و ضبط کے ساتھ عوامی خدمت کے لیے پرعزم‘‘ ہیں۔انہوں نے اعتماد سے کہا، ’’یہ نشست بی جے پی کی تھی، ہے اور ہمیشہ بی جے پی کی ہی رہے گی۔‘‘
کیلی فورنیا یونیورسٹی سے معاشیات میں بی اے کرنے والی دیویانی نے خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے بی جے پی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ وزیراعظم مودی کے وڑن ‘وِکسِت بھارت’ کے تحت ان کا مقصد ’’ترقی یافتہ ناگروٹا اور ترقی یافتہ جموں و کشمیر‘‘ بنانا ہے۔
دیویانی نے کہا، ’’بی جے پی صرف ایک پارٹی نہیں بلکہ ایک خاندان ہے۔ ہم باتوں پر نہیں بلکہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم زمینی سطح پر کام کرتے ہیں اور عوام کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ ہم یہ نشست بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔‘‘
جموں و کشمیر، اڈیشہ، جھارکھنڈ، میزورم، پنجاب، تلنگانہ اور راجستھان کی آٹھ اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات ۱۱ نومبر کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی۱۴ نومبر کو ہوگی۔
جب ان سے انتخابی امکانات کے بارے میں پوچھا گیا تو دیویانی رانا، جو گزشتہ سال بی جے پی یوتھ ونگ جموں و کشمیر کی نائب صدر مقرر ہوئی تھیں، نے کہا، ’’اس کا جواب عوام دیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ووٹرز بھرپور حمایت کے ساتھ ہمیں کامیاب کریں گے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ دیویندر سنگھ رانا۳۱؍ اکتوبر ۲۰۲۴ کو ۵۹ سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، چند روز قبل ہی وہ اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار جوگندر سنگھ کو۳۰ہزار۳۷۲ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دے کر کامیاب ہوئے تھے۔
پارٹی نے بڈگام نشست کیلئے آغا سید محسن کو میدان میں اتارا ہے۔آغا سید محسن، جو پارٹی کے بڈگام کے سابق ضلع صدر رہ چکے ہیں،بڈگام نشست سے اپنی قسمت آزمائی کریں گے جبکہ دیویانی رانا، جو بی جے پی لیڈر مرحوم دیویندر سنگھ رانا کی بیٹی ہیں، نگروٹہ سیٹ سے امید وار ہوں گی۔
یاد رہے کہ بی جے پی نے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بڈگام سیٹ سے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ بڈگام اسمبلی نشست اس وقت خالی ہوئی تھی جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جنہوں نے دو نشستوں بڈگام اور گاندربل سے چنائو لڑا تھا اور دونوں پر کامیابی حاصل کی تھی، نے بعد میں گاندر بل نشست کو بر قرار رکھا تھا اور بڈگام نشست سے مستعفی ہوئے تھے جبکہ نگروٹہ کی نشست بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر سنگھ رانا کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
عمر عبداللہ نے۳۵ہزار۸ سو۴ووٹ حاصل کرکے پی ڈی پی کے آغا منتظر جو آغا روح اللہ کے قریبی رشتہ دار ہیں، کو شکست دی تھی جنہوں نے ۱۷ ہزار ۴سو ۴۵ ووٹ حاصل کئے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں یہ ضمنی انتخابات عوامی رجحان کا پیمانہ ثابت ہوں گے کیونکہ حکومت کی تشکیل کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بڈگام کا نتیجہ نیشنل کانفرنس کی انتخابی قوت کا امتحان ہوگا جبکہ نگروٹہ میں بی جے پی کے اثر و رسوخ کی جانچ ہوگی۔
بڈگام میں ضمنی انتخاب نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے درمیان براہِ راست مقابلے کی توقع ہے، جبکہ ناگروٹا میں دیویانی رانا اپنے والد کی مضبوط عوامی وراثت اور بی جے پی کے مستحکم ووٹ بینک پر بھروسہ کر رہی ہیں۔
امیدواروں کی نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ ۲۰؍اکتوبر اور نام واپس لینے کی آخری تاریخ ۲۴؍اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ (ایجنسیاں)
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










