’آپریشن سندور نے پاکستانی دہشت گرد ہیڈکوارٹرز، ان کے تربیتی مراکز اور لانچ پیڈز کو تباہ کر دیا ہے‘
سرینگر/۱۴؍ اکتوبر
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کو کہا کہ آپریشن سندور نے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے ہیڈکوارٹرز، تربیتی مراکز اور لانچ پیڈز کو تباہ کر دیا ہے اور اب دہشت گردوں کے لیے دنیا میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی۔
این ایس جی (نیشنل سکیورٹی گارڈ) کے ہیڈکوارٹر میں اس فورس کے ۴۱ ویں یومِ تاسیس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے، شاہ نے کہا کہ ہندوستانی سکیورٹی فورسز اس عزم کے ساتھ کام کر رہی ہیں کہ دہشت گردی کے ہر عمل کا حساب زمین کی گہرائی تک جا کر لیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا’’آپریشن سندور نے پاکستانی دہشت گرد ہیڈکوارٹرز، ان کے تربیتی مراکز اور لانچ پیڈز کو تباہ کر دیا ہے… آپریشن مہادیو میں ہماری سکیورٹی فورسز نے ان دہشت گردوں کے خلاف درست کارروائی کی جنہوں نے پہلگام میں دہشت گرد حملہ کیا تھا۔ اس کارروائی سے شہریوں کا اپنی فورسز پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے‘‘۔
قابلِ ذکر ہے کہ آپریشن سندور کے تحت مئی میں ہندوستانی دفاعی افواج نے پاکستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کارروائی۲۲؍ اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد کی گئی تھی جس میں۲۶؍افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔
ان کاکہنا تھا’’اگر آپ حکومت کی دہشت گردی کے خلاف مہم کا بغور تجزیہ کریں … آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی سے لے کر سرجیکل اسٹرائیک، ایئر اسٹرائیک اور آپریشن سندور تک …تو یہ واضح ہو جائے گا کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی جڑوں پر کاری ضرب لگائی ہے‘‘۔
شاہ نے مزید کہا’’دہشت گرد کہیں بھی چھپ جائیں، ہماری سکیورٹی فورسز نے ثابت کر دیا ہے کہ اب دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے جوان دہشت گردی کے ہر عمل کا حساب زمین کی گہرائی تک جا کر لیں گے‘‘۔
وفاقء وزیر داخلہ نے بتایا کہ۲۰۱۹ کے بعد سے مرکزی حکومت نے ملک کو دہشت گردی کے خطرات سے بچانے کیلئے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔
ان میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ میں ترامیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کی تحقیقات میں سرگرمی دکھائی ہے۔
شاہ نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کی فنڈنگ کی سائنسی تحقیقات کے لیے ایک نظام قائم کیا ہے، دہشت گرد تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر پابندی لگائی ہے، اور ملٹی ایجنسی سینٹر (ایم سی اے) کو مزید مضبوط کیا ہے تاکہ ملک بھر میں دہشت گرد گروہوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کو جمع اور شیئر کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا’’ہم نے پہلی بار نئے فوجداری قوانین میں دہشت گردی کی واضح تعریف متعین کی ہے اور عدالتوں میں موجود خامیوں کو پْر کیا ہے۔ اب تک ہم نے ۵۷ سے زیادہ افراد اور متعدد تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیا ہے‘‘۔
شاہ نے کہا کہ برسوں سے نیشنل سیکیورٹی گارڈ (این ایس جی) نے ملک میں منظم جرائم اور دہشت گردی کے خلاف اہم جنگ لڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ۱۹۸۴ سے اب تک این ایس جی نے کئی سنگین حملوں میں بہادری کے ساتھ ملک کی حفاظت کی ہے، جن میں آپریشن اشومیدھ، آپریشن وجرشکتی اور آپریشن دھنگو سرکشا شامل ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا’’این ایس جی کی بہادری دیکھ کر ملک کا ہر شہری یقین محسوس کرتا ہے کہ قوم کی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ پورا ملک این ایس جی کی شجاعت پر فخر کرتا ہے۔ میں این ایس جی کے تمام جوانوں کو اپنی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں‘‘۔
این ایس جی وزارت داخلہ کے تحت ایک وفاقی ہنگامی فورس ہے جسے ۱۹۸۴ میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کے ’بلیک کیٹ‘ کمانڈوز کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، ہائی جیکنگ سے نمٹنے، اور اعلیٰ خطرے والے وی آئی پیز کی حفاظت کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔
شاہ نے اعلان کیا کہ حکومت این ایس جی کا نیا مرکز (چھٹا ہب) اتر پردیش کے مذہبی شہر ایودھیا میں قائم کرے گی۔فی الحال این ایس جی کے پانچ ہب ممبئی، چنئی، کولکاتا، حیدرآباد اور گاندھی نگر میں ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے این ایس جی کے خصوصی آپریشن ٹریننگ سینٹر کی سنگِ بنیاد بھی رکھی، جو ۸؍ ایکڑ رقبے پر۱۴۱ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ جدید تربیتی مرکز نہ صرف این ایس جی کے لیے ہوگا بلکہ ملک بھر کی اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈز کے اہلکاروں کو بھی تربیت دے گا۔
شاہ نے کہا’’یہ اقدام ملک کی دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو مزید مضبوط بنائے گا۔‘‘









