سرینگر/۱۳؍اکتوبر
بی جے پی جموں کشمیر یونٹ کے صدر ست شرما کا کہنا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی اس بار تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے ۔
شرما نے ساتھ ہی کہا’’ہم راجیہ سبھا انتخابات میں ایک سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ‘‘۔
بی پے جی یونٹ صدر جو راجیہ سبھا انتخابات کے ایک امیدوار بھی ہیں، نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
شرمانے کہا’’بی جے پی تینوں راجیہ سبھا سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور ہم تینوں نشستوں پر محنت سے لڑیں گے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’بی جے پی اس بار تاریخ رقم کرے گی اور ہم راجیہ سبھا انتخابات میں ایک سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ‘‘۔
نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے شرما نے کہا’’ہر کوئی اس پارٹی کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ ایک سال گذرنے کے باوجود بھی اس پارٹی نے کوئی کام نہیں کیا‘‘۔
بی جے پی لیڈر نے کہا’’یہ پارٹی ترقیاتی کرنے میں ناکام ہوئی اور اپنے منشور کا کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کیا بلکہ اس پارٹی نے صرف ریاستی درجے کی بحالی کی بات کی‘‘۔ان کا کہنا تھا’’ہمیں یقین ہے بی جے پی ایک سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی۔‘‘
دریں اثنا مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے پیر کو کہا کہ بی جے پی جموں کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات جیتنے کے لیے کسی بھی غیر منصفانہ طریقے کا استعمال نہیں کرے گی، لیکن امید ظاہر کی کہ ایم ایل ایز پارٹی کے امیدواروں کے حق میں اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں گے تاکہ مرکز کے زیرِ انتظام خطے کے مفاد کا تحفظ ہو سکے۔
سنگھ نے کہا، ’’یہ کہنا غلط ہے کہ ہم (بی جے پی) کراس ووٹنگ کے لیے اکسانا چاہتے ہیں یا ووٹ خریدنے میں ملوث ہوں گے۔ بی جے پی ایک جمہوری پارٹی ہے، ہم جمہوری اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔‘‘
مرکزی وزیرنے مزید کہا کہ اگر ایم ایل ایز اپنے ضمیر کی سنیں تو وہ انہیں بتائے گا کہ جموں و کشمیر کا مستقبل وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر میں مملکتی وزیر، سنگھ ان تین بی جے پی امیدواروں کے ساتھ تھے جنہوں نے ۲۴؍ اکتوبر کو ہونے والے چار راجیہ سبھا نشستوں کے انتخابات کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے۔
سنگھ نے کہا کہ ایم ایل ایز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان رہنماؤں کی حمایت کریں گے جو تجربہ کار ہیں اور عوامی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا ’’آج تین بی جے پی امیدوار ‘ ست شرما، علی محمد میر اور راکیش مہاجن ‘ نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے۔ تینوں تجربہ کار ہیں اور طویل عرصے سے عوامی زندگی سے وابستہ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایم ایل ایز ہمارے امیدواروں کو جیت میں مدد کریں گے کیونکہ ان انتخابات میں کوئی وہِپ نہیں ہے‘‘۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ جموں کشمیر کی فلاح و بہبود ۲۰۱۴ سے وزیر اعظم مودی کی اولین ترجیحات میں شامل رہی ہے۔سنگھ نے کہا ’’گزشتہ ۱۱ برسوں میں وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کو سب سے زیادہ ترجیح دی ہے۔ ۲۰۱۴ میں تباہ کن سیلاب کے بعد بھی انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنی پہلی دیوالی اسی خطے میں گزاری۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کی آواز بلند کرنے کے لیے راجیہ سبھا میں بی جے پی کی موجودگی کو مضبوط کیا جائے۔ (ایجنسیاں)










