سرینگر/۱۰؍اکتوبر
پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کی زیرقیادت حکومت کو اسمبلی اجلاس صرف پانچ کام کے دنوں تک محدود کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس۲۳؍اکتوبر سے سری نگر میں شروع ہوگا، جو۳۱ ؍اکتوبر تک جاری رہے گا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری کردہ عارضی کیلنڈر کے مطابق یہ سیشن نو دنوں پر محیط ہوگا، جس میں مجموعی طور پر چھ ورکنگ دن کارروائیاں منعقد ہوں گی۔
پی ڈی پی نے اپنے ایکس ہینڈل پر ایک بیان میں کہا’’جہاں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کو آواز دینے کے وعدے کے ساتھ برسراقتدار آئی تھی، اسمبلی اجلاس کو صرف۵کام کے دنوں تک محدود رکھنا اپنے آپ میں ایک ستم ظریفی ہے‘‘۔
پی ڈی پی نے الزام لگایا کہ سیشن کو جان بوجھ کر مختصر رکھ کر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ایوان میں کوئی بامعنی بحث یا جوابدہی نہ ہو۔
اپوزیشن جماعت نے کہا’’سیشن کو جان بوجھ کر اتنا مختصر رکھ کر عمرعبداللہ کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کوئی بحث نہ ہو تاکہ وہ کسی جوابدہی سے بچ سکیں اور وہ بھی ایسے وقت جب ان کو اقتدار میں آئے ایک سال مکمل ہوا ہے ۔‘‘










