جمعرات, جولائی 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home تازہ تریں

مرکز کوریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق عرضیوں پر جواب کیلئے چار ہفتوں کی مہلت

پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے پیشِ نظر ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر مزید غور کیلئے کچھ وقت درکار :مرکز

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-11
in تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, مقامی خبریں
A A
۱۳ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد 
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

نئی دہلی/۱۰؍ اکتوبر:
سپریم کورٹ نے جمعہ کو مرکز کو چار ہفتوں کا وقت دیا ہے تاکہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر دائر عرضیوں کے سلسلے میں اپنا جواب داخل کرے۔
چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے مختلف عرضیوں پر سماعت کی، جن میں تعلیمی ماہر ظہور احمد بھٹ اور سماجی و سیاسی کارکن احمد ملک کی جانب سے دائر درخواستیں شامل تھیں۔ ان درخواستوں میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مرکز سے اپنے اس وعدے پر عملدرآمد کرائے جس میں کہا گیا تھا کہ ریاستی حیثیت ’جلد از جلد‘بحال کی جائے گی۔
درخواست گزاروں نے اس یقین دہانی کا حوالہ دیا جو مرکز نے آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی سے متعلق سماعت کے دوران دی تھی۔
مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل‘ تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ خطے میں گزشتہ برس پرامن انتخابات ہوئے، تاہم حالیہ حفاظتی خدشات اور پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے پیشِ نظر ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر مزید غور کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔
مہتا نے کہا’’انتخابات پْرامن انداز میں منعقد ہوئے اور ایک منتخب حکومت قائم ہے۔ گزشتہ چھ برسوں میں جموں و کشمیر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، تاہم حالیہ چند واقعات، جیسے پہلگام حملہ، حتمی فیصلے سے پہلے غور طلب ہیں‘‘۔
سالیسٹر جنرل نے مزید بتایا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر مرکز کی مشاورت جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ جاری ہے۔ان کا کہنا تھا’’یہ ایک منفرد نوعیت کا مسئلہ ہے، جس میں کئی حساس پہلو شامل ہیں۔ یقینا ایک وعدہ کیا گیا تھا، مگر متعدد عوامل پر غور ضروری ہے‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ ایک خاص بیانیہ پھیلا کر جموں و کشمیر کی صورتحال کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس گوائی نے کہا کہ یہ علاقہ اب بھی سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے اور انہوں نے پہلگام حملے کا حوالہ دیا۔
ظہور بھٹ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے کہا’’پہلگام انہی کے دورِ حکومت میں ہوا‘‘۔ جس پر مہتا نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا’’یہانہی کے دور‘ سے کیا مراد ہے؟ یہ ہماری حکومت ہے۔ میں اس پر اعتراض کرتا ہوں‘‘۔
شنکر نارائنن نے کہا کہ مرکز نے ۲۰۲۳ میں عدالت کو ریاستی حیثیت بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی’’تب سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے‘‘۔مہتا نے فوراً جواب دیا’’اور خون بھی۔ یہ شہری عدالتِ عظمیٰ کے سامنے حکومتِ ہند کو اپنی حکومت سمجھتا ہے، نہ کہ تمہاری‘‘۔
شنکر نارائنن نے یہ بھی استدعا کی کہ معاملہ پانچ رکنی آئینی بنچ کو بھیجا جائے کیونکہ آرٹیکل ۳۷۰ کے فیصلے پر بھی پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی تھی۔انہوں نے واضح کیا کہ درخواست گزار آرٹیکل ۳۷۰کے فیصلے کو دوبارہ کھولنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف اْس وعدے پر عملدرآمد چاہتے ہیں جو مرکز نے ’مناسب مدت‘میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے دیا تھا۔
سالیسٹر جنرل نے اس مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ کام مداخلت کاروں کے کہنے پر نہیں ہو سکتا‘‘۔
ایم ایل اے عرفان حفیظ لون کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل منیکا گروسوامی نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی طویل تاخیر آئین کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔
گروسوامی نے کہا’’اگر کسی ریاست کو یوں ایک یونین ٹیریٹری میں بدلا جا سکتا ہے تو پھر وفاقیت کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ جموں و کشمیر اسمبلی نے ایک سال پہلے ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔ اس کی مسلسل تردید ایک خطرناک مثال قائم کر رہی ہے‘‘۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل ایک ‘دو اور تین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ان دفعات میں کسی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ مرکز نے یقین دہانی کرائی تھی… اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ وعدہ پورا نہیں ہوتا تو وفاقیت کے لیے اس کے کیا نتائج ہوں گے؟‘‘
ایک اور وکیل نے کہا’’اگر ایسا ممکن ہوا تو کل کسی بھی ریاست ‘ چاہے وہ اتر پردیش ہو یا تمل ناڈو‘ کو یونین ٹیریٹری میں بدلا جا سکتا ہے، جو ہماری آئینی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا‘‘۔
اس موقع پر سالیسٹر جنرل نے وکلاء پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو عالمی سطح پر’منفی انداز‘ میں پیش کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا’’آپ اتنے مضطرب کیوں ہو رہے ہیں؟ ان کی بات مکمل ہونے دیں‘‘۔جس پر عدالت میں ہلکی ہنسی چھا گئی۔
جموں کے وکلاء کے ایک گروپ کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ خطے کے لوگ شدید بے روزگاری اور ترقیاتی جمود کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا’’جموں خطے میں بمشکل کوئی ترقیاتی کام ہو رہا ہے۔ عوامی نمائندے شکایت کرتے ہیں کہ انہیں مقامی ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز نہیں مل رہے۔ پہلگام جیسے واقعات کے باوجود مجموعی طور پر امن قائم ہے، سیاحت بڑھ رہی ہے اور ویشنودوی یاترا بلا رکاوٹ جاری ہے۔ سلامتی کے خدشات کو مستقل بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
اس پر تشار مہتا نے جواب دیتے ہوئے کہا’’جموں و کشمیر میں نمایاں بہتری آئی ہے، ہر کوئی خوش ہے…۹ء۹۹ فیصد لوگ حکومتِ ہند کو اپنی حکومت سمجھتے ہیں۔ یہ دلائل کسی اور فورم کے لیے ہیں، عدالت کے لیے نہیں‘‘۔
ظہور بھٹ کی عرضی میں کہا گیا ہے’’ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر، جموں و کشمیر میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کی نمائندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جو آئینِ ہند کے بنیادی ڈھانچے ‘ وفاقیت،کی سنگین خلاف ورزی ہے‘‘۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا کے انتخابات پْرامن انداز میں منعقد ہوئے، کسی قسم کے تشدد یا سلامتی کے مسئلے کی اطلاع نہیں ملی۔’’لہٰذا کوئی ایسی رکاوٹ باقی نہیں رہی‘ نہ سلامتی کے خدشات، نہ تشدد‘ جو جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مانع ہو، جیسا کہ حکومتِ ہند نے خود عدالت میں یقین دہانی کرائی تھی۔‘‘(ایجنسیاں)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

بھارت کاپاکستان پر پی او کے حوالے سے طنز:افغانستان سے کہا کہ ہم پڑوسی ہیں

Next Post

پی ڈی پی کی اسمبلی سیشن محدود کرنے پر عمر حکومت کی تنقید

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘
اہم ترین

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

2026-07-22
مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر
اہم ترین

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

2026-07-22
’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘
اہم ترین

’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘

2026-07-22
’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘
اہم ترین

’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘

2026-07-22
’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘
اہم ترین

’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘

2026-07-22
جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی  گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع
اہم ترین

جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع

2026-07-22
وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ
اہم ترین

 بارش کے بعد آبی جماؤ  پر وزیر اعلیٰ کا  اسمارٹ سٹی  منصوبے کی تحقیقات کا اعلان

2026-07-22
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

 چہرہ شناختی نظام کی مدد سے یو اے پی اے کا ملزم اننت ناگ میں گرفتار

2026-07-22
Next Post
اسمبلی انتخابات:پلوامہ حلقے میں سخت مقابلے متوقع‘بازی کوئی بھی مار سکتا ہے

پی ڈی پی کی اسمبلی سیشن محدود کرنے پر عمر حکومت کی تنقید

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.