سرینگر/۱۰؍اکتوبر
طالبان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کے دورے کے دوران کہا کہ’افغانستان میں اب کوئی دہشت گرد تنظیم سرگرم نہیں ہے،‘ اور پاکستان کو مشورہ دیا کہ وہ بھی امن کے راستے پر چلے۔
متقی نے کہا’’افغانستان کی سرزمین پر اب لشکرِ طیبہ یا جیشِ محمد جیسی کوئی تنظیم موجود نہیں۔ افغانستان کا کوئی ایک انچ علاقہ بھی ان کے قبضے میں نہیں ہے۔ جس افغانستان کے خلاف ہم نے ۲۰۲۱ میں کارروائی کی تھی، آج وہ بالکل بدل چکا ہے‘‘۔
طالبان وزیر خارجہ نے مزید کہا’’دیگر ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ امن کیلئے وہی قدم اٹھائیں جو افغانستان نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف اٹھائے‘‘۔
متقی کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جس کے دوران بھارت نے افغانستان کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ بھارت کابل میں اپنی ٹیکنیکل مشن کو مکمل سفارت خانے کی سطح تک اپ گریڈ کرے گا۔
متقی نے پریس کانفرنس میں کابل میں ہونے والے حالیہ دھماکے پر بھی بات کی اور الزام لگایا کہ یہ پاکستان کی سازش تھی۔
ان کاکہنا تھا’’سرحد کے قریب ایک حملہ ہوا ہے، ہم اس عمل کو پاکستان کی غلطی سمجھتے ہیں۔ مسائل اس طرح حل نہیں کیے جا سکتے۔ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے مسائل خود حل کرے۔ افغانستان نے۴۰ سال بعد امن اور ترقی حاصل کی ہے۔ اگر ہمیں امن ملا ہے تو کسی کو اس پر اعتراض کیوں ہونا چاہیے؟‘‘
متقی نے خبردار کیا کہ افغانوں کے حوصلے کو آزمایا نہ جائے۔ان کاکہنا تھا’’اگر کوئی افغانستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو سوویت یونین، امریکہ اور نیٹو سے پوچھ لے ‘ وہ بتا دیں گے کہ افغانستان کے ساتھ کھیل کھیلنا اچھا نہیں ہوتا‘‘۔
طالبان وزیر خارجہ نے کہا کہ کابل اسلام آباد کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے، لیکن یہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔
بھارت سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے نئی دہلی کی تعریف کی کہ اس نے حالیہ زلزلے کے بعد سب سے پہلے امداد بھیجی۔
ان کاکہنا تھا’’افغانستان بھارت کو اپنا قریبی دوست سمجھتا ہے۔ ہم باہمی احترام، تجارت، اور عوامی روابط پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم ایک مشاورتی نظام قائم کرنے کے لیے تیار ہیں جو ہمارے تعلقات کو مزید مضبوط کرے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تجارتی محصولات نے خطے پر اثر ڈالا، اور بھارت و افغانستان کو مشترکہ بات چیت کرنی چاہیے۔
متقی نے کہا’’بھارت اور افغانستان دونوں کو امریکہ کے ساتھ مشترکہ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ تجارت میں اضافہ ہوا ہے، اور تمام تجارتی راستے کھلے رہنے چاہئیں، کیونکہ راستے بند ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت متاثر ہوتی ہے۔(ویب ڈیسک )‘‘










