نئی دہلی، 9 اکتوبر (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے چیف جسٹس بی آر گوائی پر جوتا پھینکنے کے واقعہ اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں دھمکیاں دینے کو دلتوں کو ڈرانے اور پوری عدلیہ کو دبانے اور دھمکانے کی سازش قرار دیا ہے ۔
مسٹر اروند کیجریوال نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو میں کہا کہ چیف جسٹس بی آر گوائی پر حملے سے پورا ملک حیران ہے ۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کے خلاف حملے اور طرح طرح کے تشدد کی دھمکیاں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان کی توہین بھی کی گئی ہے ۔ انتظامیہ نے اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی دھمکیاں دینے اور توہین کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ گویا یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
انہوں نے کہا، "اس واقعے کے ذریعے ان لوگوں نے دلت برادری اور عدلیہ کو مضبوط پیغام دینے کی کوشش کی ہے ۔ چیف جسٹس بی آر گوائی دلت برادری سے آتے ہیں، یہ لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ دلت کا بیٹا اپنی محنت اور لگن سے عدلیہ میں اعلیٰ مقام پر فائز ہو۔ کیا یہ حرکتیں دلت برادری دھمکانے اور دلت کی تذلیل کرنے کی کوشش نہیں ہیں؟” کیا اس سے دلتوں پر ظلم اور نفرت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی؟
عآپ کے لیڈر نے کہا، "اس پورے واقعے سے ملک کی عدلیہ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر چیف جسٹس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو دوسرے ججوں کی حفاظت کون کرے گا؟ اس واقعے کے بعد کوئی بھی جج انصاف کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان طاقتوں کے خلاف بولنے سے ڈرے گا۔ وہ یہ محسوس کریں گے کہ ان پر بھی اسی طرح حملہ کیا جا سکتا ہے ، ان کے خاندان کو سوشل میڈیا پر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو دھمکیاں دینے اور ان کی توہین کرنے والوں کو اتنی سخت سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی عدلیہ کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات نہ کرے ۔ اس بات کو وسیع تر تناظر میں رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن، میڈیا اور اپوزیشن کے بعد اب یہ لوگ عدلیہ کی آواز کو دبا کر پوری جمہوریت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی ہمارے ملک کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے ۔ یہ توہین نہ صرف ملک کے آئین کی توہین ہے بلکہ بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر کی بھی توہین ہے ۔
عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جسٹس گوائی پر حملہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں ہے ، بلکہ پوری دلت برادری اور پوری عدلیہ کو ڈرانے اور بابا صاحب کے آئین کی توہین کرنے کی کوشش ہے ۔ اقتدار کے نشے میں چور لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ دلت طبقہ کا ایک شخص تعلیم کے ذریعے ملک کے چیف جسٹس کے عہدے تک پہنچے ۔








