رانچی، 9 اکتوبر (یو این آئی) جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے کانگریس کے سابق قومی صدر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی کو بڑی راحت دیتے ہوئے مقدمہ نچلی عدالت کو واپس بھیج دیا۔
ہائی کورٹ نے چائی باسا سول کورٹ کے اس کے خلاف دائر مقدمے کا نوٹس لینے کے حکم کو رد کر دیا ہے اور ازالے کے لیے کیس کو واپس نچلی عدالت کو بھیج دیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ حکم سینئر مجسٹریٹ نے سیشن کورٹ کے حکم کے زیر اثر دیا، جو کہ غلط تھا۔
یہ واقعہ چائی باسا میں ایک شکایت کنندہ کی شکایت سے شروع ہوا، جسے ابتدائی طور پر سینئر مجسٹریٹ نے خارج کر دیا تھا۔ شکایت کنندہ نے سینئر سیشن کورٹ کے سامنے اس فیصلے کے خلاف فوجداری نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ نظرثانی کی درخواست کے بعد سینئر مجسٹریٹ نے دوبارہ نوٹس لیا اور سمن جاری کیا، جس سے تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ اس متنازعہ حکم کے زیر اثر چائباسا سول کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس کیس کی سماعت جسٹس انیل کمار چودھری کی سربراہی میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کی بنچ نے کی۔ سینئر وکیل دیپانکر رائے نے راہل گاندھی کی طرف سے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کیس سے متعلق احکامات پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا گیا ہے ۔
سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ نچلی عدالت کا حکم کمزور اور متاثر ہے ، اس لیے اس کا ریمانڈ دیا گیا تاکہ نچلی عدالت آزادانہ اور غیر جانبداری سے اس مقدمے پر دوبارہ غور کر سکے ۔








