کوکرناگ/۹؍اکتوبر
جنوبی کشمیر کے کوکرناگ کے بالائی جنگلات میں انسدادِ دہشت گرد کارروائی کے دوران لاپتہ ہوئے ایک پیرا ٹروپر کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ سپاہی تین روز قبل بلند پہاڑی علاقے میں برفانی تودہ یا برفانی طوفان کی زد میں آنے سے جاں بحق ہوا۔
حکام نے بتایا کہ برآمد ہونے والے سپاہی کے ساتھ اْس کا سامان اور سروس ہتھیار بھی موجود تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس ہفتے کے اوائل میں شروع کی گئی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کا حصہ تھا۔ ہلاک شدہ سپاہی کی شناخت تاحال سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اْس وقت پیش آیا جب پیرا ٹروپرز کی ایک ٹیم خراب موسمی حالات میں کام کر رہی تھی اور اچانک برفانی طوفان کی زد میں آ گئی۔ اس واقعے کے بعد دو اہلکاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد دشوار گزار علاقے اور کم مرئی حالات کے باوجود فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
فوج کے ایک سینئر افسر نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو تصدیق کی کہ دوسرے لاپتہ سپاہی کو تلاش کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
اس افسر کاکہنا تھا ’’خراب موسم اور مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود فوج اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں لاپتہ اہلکار کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں‘‘۔
حکام اس سانحے کے حالات و وجوہات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ علاقے میں کارروائیاں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے جاری ہیں کہ وہاں کسی جنگجو کی موجودگی نہ ہو۔
فوج کی چنار کور نے گذشتہ شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی یہ جوان ایک فوجی آپریشن کے دوران لاپتہ ہوئے ۔
پوسٹ میں کہا گیا’’۶؍اور۷؍اکتوبر کی درمیانی رات کو کشتواڑ رینج میں ایک آپریشنل ٹیم کو جنوبی کشمیر کے پہاڑوں میں شدید برفانی طوفان اور وائٹ آؤٹ (نظر نہ آنے والے ) صورتحال کا سامنا کرنا پڑا‘‘۔
انہوں نے کہا’’اس کے بعد دو فوجی جوانوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہوا،وسیع پیمانے پر تلاش اور بچاؤ آپریشن شروع کیا گیا ہے لیکن موجودہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے اس میں مشکلات درپیش ہیں‘‘۔
یہ جنگلاتی علاقہ جہاں فوجی جوان لاپتہ ہوئے ہیں وہی مقام ہے جہاں۱۳ستمبر ۲۰۲۳کو ایک شدید جھڑپ ہوئی تھی۔اس رات کوکرناگ کے گڈول جنگل میں دہشت گردوں کے ایک مشتبہ ٹھکانے کے قریب پہنچتے ہی سینئر افسران شدید فائرنگ کی زد میں آ گئے تھے ۔
اس تصادم میں فوج کا ایک کرنل، ایک میجر اور جموں و کشمیر پولیس کا ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جاں بحق ہوا تھا اورایک فوجی زخمی ہوا تھا۔اور بعد میں لشکر طیبہ کے کمانڈر عزیر خان کی ہلاکت کے ساتھ ایک ہفتے سے جاری یہ آپریشن ختم ہوا تھا۔(ویب ڈیسک)










