سرینگر/۸؍اکتوبر
بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سینئر افسر‘ اشوک یادو نے بدھ کو بتایا کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر سے دراندازی کی تمام کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں کیونکہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سکیورٹی فورسز کی چوکسی اور جدید نگرانی کے آلات کے استعمال سے کسی بھی دہشت گرد کو داخل ہونے کا موقع نہیں ملا۔
آئی جی بی ایس ایف کشمیر فرنٹیئر اشوک یادو نے کہا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق لانچنگ پیڈ پر دہشت گرد اب بھی موجود ہیں، لیکن فورسز کی مستعدی کے باعث وہ کوئی بڑی کارروائی انجام نہیں دے پا رہے ہیں۔
پادو نے کہا’’آپریشن سندور کے بعد بی ایس ایف اور فوج نے جس طرح لائن آف کنٹرول پر اپنی مضبوط گرفت قائم کی ہے ، اس سے دراندازی کی کوششوں کو پوری طرح ناکام بنایا گیا ہے ‘‘۔
سرحدی حفاظتی فورس کے آئی جی نے مزید کہا کہ چونکہ اب سردیوں میں دو مہینے باقی ہیں، اس لیے دہشت گرد دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں۔
ان سے جب لانچ پیڈز پر دہشت گردوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تعداد وقتاً فوقتاً بدلتی رہتی ہے ’’مگر عمومی طور پر۱۰۰سے۱۲۰غیر ملکی دہشت گرد لانچ پیڈز پر موجود رہتے ہیں‘‘۔
لشکرِ طیبہ اور داعش کے درمیان ممکنہ روابط کے بارے میں سوال کے جواب میں آئی جی نے کہا کہ تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں اس صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یادو نے کہا’’ایجنسیوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر ہم دیگر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر آپریشنل پلاننگ کرتے ہیں، اور ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘
۔










